پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی پر بھارت میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔
سنگاپور کے معروف جریدے دی سٹریٹ ٹائمز نے بھارت کی خارجہ پالیسی پر تنقیدی تجزیہ پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باعث نئی سفارتی صف بندی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی سیاسی حلقوں میں بھی اس صورتحال پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں، بھارتی سیاستدان سنجے جاہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انہوں نے بعض پالیسی فیصلوں کو ناکامی سے تعبیر کیا اور علاقائی سفارتکاری میں نئی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔
اسی طرح ششی تھرور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے کردار کو بعض عالمی امور میں نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر کے تناظر میں دیکھا جس سے خطے میں اس کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔
بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کے حوالے سے بھی مختلف رپورٹس میں یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ بھارت کی موجودہ خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اسے عالمی سطح پر مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی شخصیات بھی پاکستان کی شاندار سفارتی کامیابی کے معترف
ذرائع ابلاغ کے مطابق ہندوستان ٹائمز سمیت بعض بھارتی میڈیا اداروں میں بھی خارجہ پالیسی اور علاقائی سفارتی چیلنجز پر تفصیلی تجزیے شائع ہوئے ہیں۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے سفارتکاری ایک اہم چیلنج اور موقع دونوں کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ خطے میں طاقت کا توازن مسلسل ارتقاء پذیر ہے۔
مزید اطلاعات کے مطابق بعض تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ اور عالمی روابط میں بہتری خطے کی سیاست پر اثر انداز ہو رہی ہے، تاہم اس حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں۔
مجموعی طور پر ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں سفارتی مسابقت اور بیانیے کی جنگ آئندہ دنوں میں مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔





