بھارت ایکس پر ’’چائینہ ان انگلش‘‘ کے نام سے منسوب جعلی اکاونٹس بنا کر گمراہ کن مواد شیئر کرنے میں مصروف

خطے کی موجودہ صورتحال اور انفارمیشن لینڈ اسکیپ کو نشانہ بنانے کے لیے ایک انتہائی پیچیدہ اور منظم ڈس انفارمیشن مہم کا انکشاف ہوا ہے جس میں سنسنی خیز اور من گھڑت خبریں پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کے جعلی پروفائلز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

ماہرین نے ایک ایسے نمایاں اور اثر انداز ہونے والے جعلی اکاؤنٹ “China in English” کی نشاندہی کی ہے جو خود کو تزویراتی طور پر چینی شناخت کے ساتھ پیش کرتا ہے، تاہم اس کے ڈیجیٹل نقشِ قدم (فٹ پرنٹس) کا سراغ مغربی ایشیا میں ملا ہے۔

اس حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ اس مہم کے پیچھے بھارتی عناصر ملوث ہو سکتے ہیں جو تیسرے ملک کی لوکیشن استعمال کر کے پاکستان اور خطے کے خلاف من گھڑت بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔

صورتحال کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ گئی جب کئی بڑے نیوز چینلز اور اعلیٰ سطح کے سرکاری حکام نے نادانستہ طور پر ان بھارتی نژاد من گھڑت رپورٹوں کو آگے پھیلایا، جس سے ان جعلی خبروں کو بلا جواز کریڈبلٹی حاصل ہو گئی۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس نازک موڑ پر ایسی مربوط جعل سازی کا بنیادی مقصد پاکستان اور اس کے اتحادیوں کے درمیان الجھن اور ہیجان پیدا کرنا ہے۔

اس بات کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر ان گمراہ کن بیانیوں کو حقیقت تسلیم کر لیا گیا تو متعلقہ فریقین کی جانب سے غیر ارادی اور خطرناک ردعمل سامنے آ سکتا ہے جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

اس بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر، عوام اور میڈیا ہاؤسز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انتہائی احتیاط سے کام لیں اور تمام معلومات کی تصدیق صرف قائم شدہ اور سرکاری ذرائع سے کریں۔

مبصرین نے بھارتی نفسیاتی پروپیگنڈے کے خلاف ہر وقت چوکنا رہنے کی اہمیت پر زور دیا ہے تاکہ علاقائی استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
ڈیجیٹل دور کے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے واضح مشورہ دیا گیا ہے کہ غیر مصدقہ اور مشکوک ماخذ والے ذرائع سے ہوشیار رہیں، کسی بھی معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے حقائق کی مکمل یقین دہانی کر لیں اور صرف معروف آفیشل اکاؤنٹس پر بھروسہ کریں۔

Scroll to Top