400 کلو چاندی کو سیسےکی اینٹوں سے تبدیل کرنے پردو افسران کے خلاف کارروائی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کوئٹہ میں ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کا پردہ چاک کرتے ہوئے کسٹمز گروپ کے دو افسران کو حراست میں لے لیا ہے۔

ان افسران پر سرکاری تحویل میں موجود چاندی کے بسکٹس کو سیسے کی اینٹوں سے تبدیل کرنے کا سنگین الزام ہے۔

ایف بی آر کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کوئٹہ سے لاہور منتقل کی جانے والی 668 کلو گرام چاندی میں سے 400 کلو گرام چاندی جعلی نکلیجسے بڑی مہارت سے تبدیل کیا گیا تھا۔

اس اسکینڈل کی کڑیاں اس وقت ملیں جب سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان نے محض چاندی ہی نہیں بدلی بلکہ راستے میں اصل چاندی سے لدی ہوئی پوری گاڑی ہی تبدیل کر دی تھی۔

اس منظم دھوکہ دہی کا انکشاف اس وقت ہوا جب پاکستان منٹ لاہور میں سامان کی جانچ پڑتال کی گئی۔ گرفتار ہونے والے افسران میں عارف علی جمانی اور سمیع اللہ اچکزئی شامل ہیں، جن کے خلاف کسٹمز انفورسمنٹ نے غیر قانونی اقدامات اور قومی املاک میں خورد برد کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی محکمہ جاتی احتساب کے سخت نظام کا حصہ ہے اور اس بات کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے کہ اس پورے عمل میں مزید کون سے عناصر ملوث ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ہیرا پھیری کوئٹہ سے لاہور کے سفر کے دوران کی گئی۔

Scroll to Top