امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں جبکہ خطے میں جنگ بندی بھی برقرار ہے۔
اٹلانٹا میں تقریب سے خطاب کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک جامع معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جس کا مقصد تمام اہم امور کا احاطہ کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو نہ صرف موجودہ تنازعات کو حل کرے بلکہ مستقبل کے خدشات کو بھی کم کرے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں ایران کو پراکسی گروہوں کی مالی معاونت سے روکنے جیسے نکات شامل ہوں گے، انہوں نے کہا کہ انہیں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپی ہے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق مذاکرات میں کافی پیشرفت ہوئی تھی تاہم جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا، انہوں نے کہا کہ اگر ایران نارمل ملک کی طرح رویہ اختیار کرے تو امریکہ بھی اسی طرح کا رویہ رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو شرائط ماننی ہوں گی، جس کے بعد وہ عالمی ترقی کے سفر میں شامل ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کی یقین دہانی کرائے تو اسے عالمی معیشت میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے کہا اسلام آباد میں رہو، اگلے 48 گھنٹوں میں مذاکرات سے متعلق بڑی خبر آ سکتی ہے، نیو یارک پوسٹ کی صحافی کیٹلِن ڈورنبوس
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں آگے بڑھ رہے ہیں اور اس عمل میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 49 برس میں پہلی بار امریکا اور ایران کے درمیان اس سطح کے مذاکرات ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ اعتماد کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے اور تمام مسائل ایک رات میں حل نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور صدر ٹرمپ نے بھی نیک نیتی سے مذاکرات کی ہدایت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مذاکرات کی پیشرفت کو وہ مثبت سمجھتے ہیں اور امید ہے کہ اس سے دنیا کے لیے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔




