امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی خبریں سامنے آتے ہی عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں میں نمایاں ہلچل دیکھی گئی ہے جس کے مثبت اثرات کے طور پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 98 ڈالر جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 97 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اس کمی اور سفارتی پیش رفت کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان رہا تاہم پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی۔
ہنڈریڈ انڈیکس میں 5 ہزار 43 پوائنٹس کا بڑا اضافہ ہوا جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 65 ہزار 635 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔
ایشیائی منڈیوں میں بھی تیزی کا تسلسل برقرار رہا جہاں کورین کاسپی اور جاپان کے نکئی انڈیکس میں بالترتیب تین اور دو فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔
اس کے برعکس بھارتی شیئر بازاروں میں ایک فیصد کی مندی دیکھی گئی جبکہ یورپی مارکیٹس میں سرمایہ کاروں نے زیادہ تر محتاط رویہ اپنائے رکھا۔
دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے وفود رواں ہفتے امن مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے دوبارہ اسلام آباد کا رخ کر سکتے ہیں۔
ان اطلاعات نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دی ہے جس سے معاشی استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔





