ایک ایسی وادی جہاں موت پر ماتم نہیں، جشن منایا جاتا ہے

چترال: پاکستان کے شمالی علاقے چترال کی وادی کیلاش اپنی منفرد ثقافت اور روایات کے باعث دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے، جہاں موت کو سوگ کے بجائے خوشی کے موقع کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس روایت کو مقامی زبان میں “چیک تہوار” یا جشن کہا جاتا ہے۔

کیلاش برادری کے مطابق انسان کی موت دراصل ایک نئی زندگی کا آغاز ہے، جہاں وہ دنیاوی مشکلات سے نجات پا کر اپنے آبا و اجداد سے جا ملتا ہے۔ اسی تصور کے تحت مرنے والے کو غم کے بجائے خوشی اور احترام کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے۔

مقامی روایات کے مطابق کسی فرد کے انتقال پر تین دن تک ماتم کے بجائے رقص، موسیقی اور ڈھول کی تھاپ پر تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ اس دوران میت کو کمیونٹی ہال، جسے “جستا خان” کہا جاتا ہے، میں رکھا جاتا ہے جہاں لوگ روایتی رقص “پلائے” پیش کرتے ہیں۔

اس موقع پر کمیونٹی اور اہل خانہ مل کر 30 سے 40 بکریاں قربان کرتے ہیں، جسے “شروگا” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک اجتماعی ضیافت ہوتی ہے جس کے ذریعے نہ صرف رسم ادا کی جاتی ہے بلکہ غمزدہ خاندان کی مالی معاونت بھی کی جاتی ہے۔

اگرچہ اس دوران قریبی عزیز غم کا اظہار بھی کرتے ہیں، تاہم مجموعی فضا جشن جیسی ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ روایت غم اور خوشی کے ایک منفرد امتزاج کی عکاسی کرتی ہے، جو دنیا کی دیگر ثقافتوں سے بالکل مختلف ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ایس ایل 11: شائقینِ کرکٹ کا وزیراعظم سے بڑا مطالبہ سامنے آگیا

تحقیقی رپورٹس کے مطابق ماضی میں کیلاش برادری میں میتوں کو لکڑی کے کھلے تابوت میں رکھا جاتا تھا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافے اور اردگرد کی ثقافتوں کے اثرات کے باعث تدفین کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

تدفین کے دوران میت کے ساتھ اس کی ذاتی اشیاء جیسے پھل، رقم یا دیگر سامان رکھا جاتا ہے تاکہ اس کی زندگی کی نمائندگی کی جا سکے۔ بعض مواقع پر لکڑی کا مجسمہ “گنڈاؤ” بھی رکھا جاتا ہے، تاہم یہ روایت اب بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔

کیلاش وادی کی یہ منفرد روایت نہ صرف مقامی ثقافت کی عکاسی کرتی ہے بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں اور محققین کی دلچسپی کا باعث بھی بنی ہوئی ہے۔

Scroll to Top