وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صبح اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں ایران کی پیش کی گئی نئی تجویز پر تبادلہ خیال کیا،سابق امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایران کی تجویز قبول کرسکتے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس پریس بریفنگ میں ترجمان کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ قومی سلامتی ٹیم سے ملاقات میں صدر ٹرمپ نے ایران کی آبنائے ہرمز کو کھولنے کی تجویز پر مشاورت کی۔
امریکی ترجمان نے کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گی کہ اس پر غور کیا جا رہا ہے بلکہ صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج صبح ایک گفتگو ہوئی ہے جس پر میں ابھی تفصیل میں نہیں جانا چاہتی۔
ایک سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرلین لیویٹ نے کہا کہ اس حوالے سے مزید معلومات صدر ٹرمپ خود فراہم کریں گے میں اس وقت وہ ایرانی تجویز کی حمایت یا مخالفت پر کوئی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے ایران کے حوالے سے “ریڈ لائنز” بالکل واضح ہیں اور ان کے نزدیک سب سے مقدم امریکا اور اس کے عوام کی سلامتی ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے تجویز پیش کی ہے کہ امریکا بحری ناکہ بندی کھول دے اور جوہری مذاکرات کو سب سے آخر میں کیا جائے تو وہ جنگ بندی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی، دو ہفتوں کی بلند ترین سطح چھو لی
ادھر سابق امریکی عہدیدار ہنری ایس اینشر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ عالمی معیشت پر بڑھتے دباؤ کو کم کرنے کیلئے ایران کی پیشکش پر غور کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور ان کی سکیورٹی ٹیم اس تجویز کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ایران کی جنگ ختم کرنے کی تجویز قبول کر سکتے ہیں، جوہری معاملہ حل کرنا مشکل ہوگا تاہم آبنائے ہرمز کے مسئلے پر پیش رفت آسان ہو سکتی ہے۔





