کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں ایک ماہ کے لیے 27 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے مارچ کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جمع کرائی گئی درخواست پر نیپرا نے اپنی سماعت مکمل کر لی ہے۔
اس اضافے کا اطلاق ملک بھر کے تمام بجلی صارفین بشمول کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا، جس سے ماہانہ بلوں میں معمولی اضافہ متوقع ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ صرف فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ہے اور بنیادی ٹیرف میں تبدیلی کی خبریں فی الحال بے بنیاد ہیں۔
بجلی کے بنیادی ٹیرف کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ اس میں اضافے کا کوئی بھی فیصلہ جنوری 2027 سے پہلے متوقع نہیں ہے۔ مارچ کے دوران بجلی کی اوسط پیداواری لاگت 8.26 روپے فی یونٹ رہی جبکہ ریفرنس لاگت 7.99 روپے مقرر کی گئی تھی، جس کے فرق کو پورا کرنے کے لیے یہ درخواست دی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں بجلی کی پیداوار میں پانی کا حصہ 18 فیصد رہا جبکہ گیس سے بجلی کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ اگر موجودہ لوڈشیڈنگ نہ کی جائے تو گردشی قرضوں میں 400 سے 500 ارب روپے تک کا مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔





