ضلع نوشہرہ میں 1980 میں قائم کیے گئے تین افغان مہاجر کیمپس کو مکمل طور پر خالی کرا کر باضابطہ طور پر غیر فعال قرار دے دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نوشہرہ عرفان اللہ محسود کے مطابق ترکمن کیمپ، خیرآباد کیمپ اور اکوڑہ خٹک کیمپ میں موجود تمام افغان آبادی کو ختم کر کے زمین کو ہموار کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کیمپس میں اقوام متحدہ (UNO) کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات، جن میں صاف پانی کے ٹیوب ویل، اسکولز اور ڈسپنسریز شامل تھیں، اب متعلقہ سرکاری محکموں کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ کیمپس سے خالی ہونے والی تقریباً 6 ہزار کنال اراضی پر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت اس زمین کی خرید و فروخت اور تعمیرات پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان تینوں کیمپس میں مجموعی طور پر 42 ہزار افغان مہاجرین مقیم تھے، جن میں سے 40 ہزار سے زائد افراد واپس جا چکے ہیں، جبکہ باقی رہ جانے والے تقریباً 2 ہزار مہاجرین کی مرحلہ وار وطن واپسی کا عمل جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر عرفان اللہ محسود نے مزید کہا کہ حکومت کی پالیسی کے تحت تمام اقدامات منظم اور انسانی ہمدردی کے ساتھ مکمل کیے جا رہے ہیں، تاکہ واپسی کا عمل پرامن انداز میں مکمل ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ کیمپس کئی دہائیوں سے فعال تھے اور ان کے غیر فعال ہونے کو ایک اہم انتظامی اور تاریخی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔





