افغانستان کی جانب سے انگور اڈہ میں مبینہ گولہ باری، ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی، ڈاکٹرز و متاثرین کے بیانات سامنے آگئے

جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ سے ملحقہ علاقوں میں ایک بار پھر افغانستان کی جانب سے مبینہ مارٹر گولہ فائر کیا گیا، جس کے نتیجے میں سول آبادی شدید متاثر ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 28 اپریل 2026 کو داغا گیا مارٹر گولہ مقامی شہریوں کریم خان اور رحمت اللہ کے گھر پر آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اشفاق کے مطابق واقعے کے بعد زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پانچ افراد زیر علاج ہیں جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ تمام زخمی بلاسٹ انجری کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق متاثرہ بچوں کو فوری طور پر داخل کر کے علاج شروع کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر اشفاق نے بتایا کہ ایک مریض کے بازو میں فریکچر ہوا ہے، جسے بیک سلیب کے ذریعے اسٹیبلائز کیا گیا ہے، جبکہ دیگر زخمیوں کی حالت اس وقت زیر نگرانی ہے اور انہیں مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

متاثرہ شخص نور علی نے بتایا کہ گولہ اچانک گھر پر آ گرا، جس کے فوراً بعد زور دار دھماکہ ہوا اور پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

یہ بھی پڑھیں : انگور اڈہ، جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی جانب سے سول آبادی پر گولہ باری کے بعد جانی نقصانات پر ڈپٹی کمشنر کا بیان

ایک اور متاثرہ شخص کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ گھر کی دیواریں لرز اٹھیں اور کسی کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔

اہل علاقہ نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی اس نوعیت کی گولہ باری میں عام شہری، خصوصاً بچے بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث علاقے میں خوف اور غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسی علاقے میں سرحد پار سے فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں عام شہری زخمی ہوئے تھے۔

Scroll to Top