اسلام آباد: سال 2026 میں پاکستانی شہریوں کے لیے بیرونِ ملک روزگار کے بہترین مواقع موجود ہیں، جن میں ترقی یافتہ ممالک، یورپی یونین اور مڈل ایسٹ کی ریاستیں شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اسکلڈ مائیگریشن، فیملی ویزا اور اسٹوڈنٹ پروگرامز میں نرمی کے باعث بیرون ملک منتقلی نسبتاً آسان ہو گئی ہے۔
ماہرین کی رائے کے مطابق مختلف ممالک کی جانب سے ہنرمند افراد کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث پاکستانی محنت کشوں اور پروفیشنلز کے لیے مواقع مزید بہتر ہو رہے ہیں۔
سرفہرست ممالک اور مواقع
1. کینیڈا (Canada)
کینیڈا بدستور پاکستانیوں کی پہلی ترجیح ہے، جہاں ایکسپریس انٹری اور پروونشل نومینی پروگرامز کے ذریعے مستقل رہائش حاصل کی جا سکتی ہے۔ آئی ٹی، انجینئرنگ اور ہیلتھ سیکٹر میں نمایاں مواقع موجود ہیں۔
2. آسٹریلیا (Australia)
آسٹریلیا کا پوائنٹس بیسڈ سسٹم ہنرمند افراد کے لیے موزوں ہے، جہاں سکلڈ ویزوں کے ذریعے مستقل رہائش ممکن ہے، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور کنسٹرکشن کے شعبوں میں۔
3. برطانیہ (United Kingdom)
یوکے میں اسکلڈ ورکر ویزا اور گریجویٹ روٹ کے ذریعے ملازمت اور تعلیم کے بعد کام کے مواقع دستیاب ہیں۔
4. جرمنی (Germany)
جرمنی میں ہنرمند افراد کی کمی کے باعث EU بلیو کارڈ اور جاب سیکر ویزا اہم مواقع فراہم کرتے ہیں، خصوصاً انجینئرنگ اور آئی ٹی میں۔
5. نیوزی لینڈ (New Zealand)
اسکلڈ مائیگرنٹ پروگرام کے ذریعے 2 سے 3 سال میں مستقل رہائش حاصل کی جا سکتی ہے۔
6. امریکا (United States)
H-1B ویزا اور گرین کارڈ پروگرام پاکستانیوں کے لیے پرکشش ہیں، تاہم ویزا کا حصول محدود کوٹہ اور قرعہ اندازی پر منحصر ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان کی جانب سے انگور اڈہ میں مبینہ گولہ باری، ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی، ڈاکٹرز و متاثرین کے بیانات سامنے آگئے
7. سعودی عرب (Saudi Arabia)
سعودی عرب بدستور پاکستانی محنت کشوں کی بڑی مارکیٹ ہے، جہاں ویژن 2030 کے تحت روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
8. متحدہ عرب امارات (UAE)
یو اے ای میں گولڈن ویزا اور ٹیکس فری آمدن پاکستانیوں کے لیے خاص کشش رکھتی ہے۔
9. قطر (Qatar)
توانائی کے شعبے میں ملازمتوں اور فیملی ویزا کی آسانی اسے بہتر انتخاب بناتی ہے۔
10. عمان (Oman)
تیل، سیاحت اور دیگر شعبوں میں ہنرمند افراد کے لیے مواقع بڑھ رہے ہیں۔
امیگریشن ماہرین کے مطابق کامیاب ہجرت کے لیے پیشہ ورانہ مہارت، انگریزی زبان پر عبور اور درست وقت پر درخواست دینا انتہائی ضروری ہے۔ ہر ملک کے ویزا قوانین مختلف ہونے کے باعث مستند معلومات حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔





