اپنا گھر بنانے کے خواہشمندوں کے لیے خوشخبری، اسٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں آسان قرضوں کی فراہمی کے لیے اہم اصلاحاتی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد قرضوں کے عمل کو تیز، شفاف اور زیادہ سہل بنانا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مرکزی بینک نے بینکوں اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ ہاؤسنگ قرض کی درخواستوں کو زیادہ سے زیادہ 15 ورکنگ دنوں میں مکمل نمٹایا جائے تاکہ شہریوں کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

نئی پالیسی کے تحت قرض لینے والوں کے لیے ڈیٹ بوجھ کی حد 65 فیصد مقرر کر دی گئی ہے جبکہ قرض کی منظوری میں درخواست گزار کی گھریلو آمدن کو بنیادی معیار قرار دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مالی دباؤ کو کم کرنا اور قرض کی واپسی کو زیادہ قابلِ عمل بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری، 10 ممالک میں روزگار کے مواقع مزید آسان

اسٹیٹ بینک نے پراپرٹی ویلیوایشن کے حوالے سے بھی نئی شرائط متعارف کرائی ہیں۔ کراچی میں 50 لاکھ روپے تک مالیت کی جائیداد کے لیے اندرونی ویلیوایشن کی اجازت ہوگی، جبکہ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی کے لیے منظور شدہ ویلیوایٹر کی رپورٹ لازمی قرار دی گئی ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ہاؤسنگ فنانس کے نظام میں شفافیت کو فروغ دینا، قرضوں کے اجرا کے عمل کو تیز کرنا اور کم آمدنی والے طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی میں سہولت دینا ہے۔

Scroll to Top