کامران علی شاہ
پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر جوڈیشل افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کا حکم جاری کر دیا ہے۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کی منظوری سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مجموعی طور پر 51 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کی ذمہ داریاں تبدیل کی گئی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق کلیم ارشد خان اور بابر علی خان کو پشاور کی احتساب عدالتوں میں جج تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ مبارک زیب کا تبادلہ ڈی آئی خان سے صوابی کر دیا گیا۔
اسی طرح محمد عادل خان کو پشاور سے نوشہرہ اور محمد آصف خان کو نوشہرہ سے ایبٹ آباد منتقل کیا گیا ہے۔ نصر اللہ خان گنڈا پور کو جج کنزیومر کورٹ پشاور اور نصرت یاسمین کو جج سیلز ٹیکس ٹربیونل پشاور مقرر کیا گیا ہے۔
دیگر تعیناتیوں میں سید عقیل شاہ کو دیر اپر، اشفاق تاج کو مردان اور سہیل شیراز نور ثانی کو مہمند بھیجا گیا ہے۔
فضل ستار کو جج کنزیومر کورٹ ملاکنڈ اور راشدہ بانو کو جج اے ٹی سی مردان مقرر کیا گیا جبکہ محمد شعیب، فرزانہ شاہد اور جمال شاہ محسود کی خدمات خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
ہائیکورٹ نے متعدد ایڈیشنل سیشن ججز کی بطور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز ترقی کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔





