عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے چارسدہ میں ممتاز عالم دین مولانا شیخ ادریس کی ٹارگٹ کلنگ میں شہادت اور دو سیکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا کھلا ثبوت قرار دیا ہے۔
اپنے تعزیتی بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ پختونخوا میں آئے روز ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں، تاہم صوبائی اور مرکزی حکومتیں اس حوالے سے معنی خیز خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جو دراصل عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کا اعتراف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کو ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر کھڑا کر دیا گیا ہے، اور آج صورتحال یہ ہے کہ کسی بھی مکتب فکر، طبقے یا فرد کو محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر کوئی پختون ہے تو وہ بھی امن دشمن عناصر کے نشانے پر ہے، جو ایک انتہائی تشویشناک حقیقت ہے۔
صدر اے این پی نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ الزام تراشی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کریں، بصورت دیگر حالات اس نہج پر پہنچ سکتے ہیں کہ عوام خود اپنے تحفظ کے لیے کھڑے ہونے پر مجبور ہو جائیں گے، جس کے نتائج مزید خطرناک ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں جو امن سینکڑوں اے این پی کارکنوں، عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں سے حاصل کیا گیا تھا، اسے غیر سنجیدہ فیصلوں کے باعث نقصان پہنچ رہا ہے۔
ایمل ولی خان نے مولانا شیخ ادریس کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور زخمی اہلکاروں کو جلد صحتیابی دے۔





