جمعیت علمائے اسلام (ف) نے ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس کے قتل کے خلاف کل ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔
پارٹی کی صوبائی قیادت کے مطابق مولانا محمد ادریس کو آج نامعلوم افراد کی فائرنگ میں شہید کیا گیا، جس پر جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
اس حوالے سے سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ “ہم کب تک جنازے اٹھاتے رہیں گے، ریاست شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔” انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت عوام کو سیکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی تو اس کے وجود کا کیا جواز ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کل ملک کے تمام اضلاع میں بدامنی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، جن میں حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا جائے گا۔
پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ علما ریاست کے خیر خواہ ہیں، مگر انہیں مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی صورتحال روز بروز خراب ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کل ہونے والا احتجاج نہ صرف بدامنی کے خلاف ہوگا بلکہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خلاف بھی بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔





