واشنگٹن : وائٹ ہاوس کی نائب ترجمان انا کیلی( (Anna Kelly نے ایران سے متعلق سخت مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انا کیلی نے کہا کہ ایران اس وقت عسکری طور پر کمزور، معاشی دباؤ کا شکار اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنہا ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی حالیہ حکمت عملی اور اقدامات نے ایران پر دباؤ میں مزید اضافہ کیا ہے۔
نائب ترجمان وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جارحانہ صلاحیت کو “آپریشن مڈ نائٹ ہیمر” کے دوران شدید نقصان پہنچا، جبکہ امریکی صدر کے پاس ایران سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں، جن میں سفارتی معاہدہ اور فوجی کارروائی دونوں شامل ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات نہ کیے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ قومی سلامتی کے مفاد میں ضروری فیصلے کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : تعلیمی اداروں میں چھٹیاں ہی چھٹیاں، طلبہ و طالبات کے لیے بڑی خوشخبری
انا کیلی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے اپنی “ریڈ لائنز” مکمل طور پر واضح کر دی ہیں، جن میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے ان امریکی ریڈ لائنز کو تسلیم نہ کیا تو امریکا سخت اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔
وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان کے اس بیان کو امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں واشنگٹن ایک جانب سفارتی راستے کی بات کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب ممکنہ سخت کارروائی کا عندیہ بھی دے رہا ہے۔





