واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے ایران سے متعلق اہم قرارداد منظور کرتے ہوئے ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے اور وہاں سے امریکی فوج کو واپس بلانے کے حق میں ووٹ دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قرارداد 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور کی گئی، جسے امریکی سیاست میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ووٹنگ کو صدرٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک سیاسی دھچکا بھی تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ ناقدین کے مطابق حکومت ایران کے خلاف غیر مقبول جنگی پالیسی کو مؤثر انداز میں سنبھالنے میں ناکام رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران سے جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ دنیا بھر کی معیشتوں کو مجموعی طور پر نصف ٹریلین ڈالر تک کا جھٹکا لگنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
سینیٹ سے منظوری کے بعد اب یہ قرارداد امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کی جائے گی، جہاں اسی ہفتے اس پر ووٹنگ متوقع ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایوان نمائندگان میں بھی قرارداد کی منظوری کے امکانات روشن ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : لیسکو نے عیدالاضحیٰ سے پہلے شہریوں کو بڑی خوشخبری سنا دی
رپورٹس کے مطابق اس سے قبل ایران سے متعلق ایک ووٹنگ برابر ہوگئی تھی کیونکہ قرارداد کے حامی چند اراکین طبی وجوہات کی بنا پر اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ کانگریس کے کئی اراکین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ جنگی اقدام سے قبل کانگریس سے باقاعدہ منظوری حاصل کی جائے۔





