عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کشیدگی جلد ختم ہونے کے بیان کے بعد بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 45 سینٹ (0.4 فیصد) کمی کے بعد 110.83 ڈالر فی بیرل پر آگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 27 سینٹ (0.3 فیصد) کمی کے ساتھ 103.88 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ اس سے قبل منگل کے روز بھی دونوں بینچ مارکس میں تقریباً ایک ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

گزشتہ روز یہ کمی اس وقت دیکھنے میں آئی جب امریکی نائب صدر JD Vance نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کسی نئی جنگی کارروائی کے حق میں نہیں ہیں۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق صورتحال ابھی غیر یقینی ہے۔ فوچیومی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار توشیتاکا تازاوا کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا واشنگٹن اور تہران کسی حتمی معاہدے تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں، جبکہ امریکی پالیسی میں مسلسل تبدیلی بھی مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کسی ممکنہ امن معاہدے کی صورت میں بھی تیل کی سپلائی فوری طور پر جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آسکے گی، جس کے باعث قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔

ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ برینٹ آئل کی قیمت مختصر مدت میں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، کیونکہ مارکیٹ میں سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ کے خطرات کو اب بھی کم سمجھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جو عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی گزرگاہ ہے۔ اس صورتحال کو عالمی توانائی ایجنسی دنیا کا سب سے بڑا تیل سپلائی بحران قرار دے چکی ہے۔

Scroll to Top