پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ناراض رکن صوبائی اسمبلی فضل الٰہی نے خیبرپختونخوا کابینہ کی تشکیل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ میں ناتجربہ کار افراد کو شامل کیا گیا ہے، جس پر پارٹی کے متعدد اراکین کو اعتراضات ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فضل الٰہی نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ 35 سے 40 ارکان اسمبلی موجود ہیں اور تمام ارکان کا مطالبہ ہے کہ پارٹی قیادت بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے واضح اور مؤثر لائحہ عمل پیش کرے۔
انہوں نے بعض پارٹی رہنماؤں کی احتجاجی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کارکنوں اور ارکان کو صرف علامتی یا نمائشی احتجاج نہیں بلکہ عملی اقدامات درکار ہیں۔
فضل الٰہی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ وہ بعض سیاسی ملاقاتوں کی وضاحت کریں، جبکہ پارٹی رہنماؤں سے بھی مختلف شخصیات کے ساتھ ہونے والے رابطوں اور ملاقاتوں کے حوالے سے جواب طلب کیا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر پائے جانے والے تحفظات کو دور کرنا قیادت کی ذمہ داری ہے اور ارکان کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
فضل الٰہی نے خبردار کیا کہ اگر بانی پی ٹی آئی سے مشاورت اور رہائی کے حوالے سے واضح حکمت عملی سامنے نہ آئی تو ناراض ارکان صوبائی بجٹ کی حمایت پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔
ان کے بیان کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا میں نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ پارٹی کے اندرونی معاملات اور اختلافات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔





