پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے ناراض اراکین صوبائی اسمبلی کو منانے کے لیے پارٹی کی اعلیٰ قیادت متحرک ہو گئی ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ناراض اراکین سے رابطے شروع کرتے ہوئے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جبکہ ناراض اراکین نے باہمی مشاورت کے بعد قیادت کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے 30 سے زائد اراکین صوبائی اسمبلی صوبائی حکومت کی بعض پالیسیوں اور بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے حوالے سے واضح حکمت عملی نہ ہونے پر تحفظات رکھتے ہیں۔ اسی تناظر میں قیادت نے اختلافات دور کرنے اور پارٹی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے کے لیے رابطے تیز کر دیے ہیں۔
دوسری جانب عمران خان رہائی تحریک کی مشاورتی کمیٹی کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے واضح اور جامع حکمت عملی مرتب نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے صوبائی قیادت اور حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ رہائی کی تحریک کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے عملی لائحہ عمل ناگزیر ہے۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پہلے بھی جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ کمیٹی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ جلد از جلد واضح حکمت عملی تشکیل دے کر عملی اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے کے مطابق بیرسٹر گوہر نے مشاورتی کمیٹی سے رابطہ کر کے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، جس کا کمیٹی نے خیر مقدم کیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر چند نمائندگان نامزد کیے گئے ہیں جو جلد پارٹی چیئرمین سے ملاقات کر کے اراکین کے تحفظات اور تجاویز سے آگاہ کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر نے ناراض اراکین سے ان کے اعتراضات اور تحفظات تفصیل سے سننے کے لیے وقت طلب کیا ہے، جبکہ پارٹی قیادت اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتی ہے۔





