آبپاشی منصوبوں کے لیے 18 کروڑ 60 لاکھ ڈالر قرض کی منظوری، چترال اور صوابی میں بڑے منصوبے مکمل ہوں گے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے زرعی شعبے کی ترقی اور آبپاشی نظام کو جدید بنانے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے 18 کروڑ 60 لاکھ ڈالر قرض حاصل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس قرض کے تحت لوئر چترال اور صوابی میں آبپاشی کے تین اہم منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ قرض خیبرپختونخوا ریزیلینٹ اریگیٹڈ ایگریکلچر لائیولی ہڈ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے لیے حاصل کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، آبپاشی کے نظام میں بہتری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
منصوبے کی مجموعی لاگت 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رکھی گئی ہے، جس میں سے 18 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ایشیائی ترقیاتی بینک قرض کی صورت میں فراہم کرے گا، جبکہ صوبائی حکومت 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اپنے وسائل سے مہیا کرے گی۔ حکومتی حصہ ٹیکسوں، ڈیوٹیوں، زمین کے حصول، پراجیکٹ مینجمنٹ اور دیگر انتظامی اخراجات پر خرچ کیا جائے گا۔
منصوبے کے تحت ضلع لوئر چترال میں دریائے تیریچ پر ملکھو آبپاشی نظام تعمیر کیا جائے گا، جس میں بیراج، سرنگ، مرکزی نہر اور تقسیم کار نہریں شامل ہوں گی۔ اس منصوبے کے ذریعے تقریباً 6 ہزار ہیکٹر زرعی اراضی کو مستقل بنیادوں پر آبپاشی کی سہولت میسر آئے گی۔
اسی طرح ضلع صوابی میں پیہور مین کینال کی بحالی اور جدید خطوط پر اپ گریڈیشن کی جائے گی، جس سے زرعی شعبے کو مزید مستحکم کرنے اور کاشتکاروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
حکام کے مطابق منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ دیہی معیشت کو بھی فروغ ملے گا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد حاصل ہوگی۔





