خیبرپختونخوا کے بجٹ سے 109 ارب روپے کی کٹوتی کے فیصلے پر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے اس فیصلے کو “شرمناک” قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں خیبرپختونخوا کے بجٹ سے 109 ارب روپے کی کٹوتی کا فیصلہ صوبے کے حقوق پر حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فارم 45 ہو یا فارم 47، اقتدار اور پختونخوا کی بربادی کے لیے تمام کردار ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبوں کو حاصل مالی خودمختاری اور آئینی حقوق کو بتدریج کمزور کیا جا رہا ہے، جبکہ دہشت گردی، بدامنی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے خیبرپختونخوا کے وسائل وفاق کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔
ایمل ولی خان کے مطابق 109 ارب روپے کی خطیر رقم صوبے کے عوام کی امانت تھی، جسے ایسے وقت میں منتقل کیا گیا ہے جب صوبہ پہلے ہی بنیادی سہولیات، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی دباؤ کا شکار ہے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ پختونخوا کے عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنا افسوسناک اور ناانصافی ہے، جبکہ حقیقی عوامی نمائندہ آوازوں کو سیاست اور پارلیمان سے دور رکھنے کے لیے منظم پروپیگنڈا کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے وسائل، آئینی حقوق اور مالی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کرے گی اور ہر فورم پر عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔





