جوڈیشل اکیڈمی سولر سسٹم معاملہ: محکمہ انرجی اینڈ پاور نے بے قاعدگیوں کے الزامات مسترد کر دیے

اعجاز آفریدی
پشاور: خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی میں 82 کلو واٹ ہائبرڈ سولر سسٹم کی آڈٹ میں مبینہ بے قاعدگیوں اور حقائق چھپانے سے متعلق الزامات پر انرجی اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ نے اپنا تحریری جواب ڈائریکٹر جوڈیشل اکیڈمی کو ارسال کر دیا ہے۔

محکمہ الیکٹرک انسپکٹریٹ کی جانب سے ارسال کردہ جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جوڈیشل اکیڈمی، پشاور میں نصب 82 کلو واٹ ہائبرڈ سولر پاور سسٹم کا معائنہ تمام متعلقہ قوانین اور ضوابط کے مطابق مکمل کیا گیا تھا، اور نظام کو تکنیکی و حفاظتی معیار پر پورا اترنے کے بعد آپریشن کے لیے موزوں قرار دیا گیا۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ معائنہ الیکٹرسٹی ایکٹ 1910، الیکٹرسٹی رولز 1937 اور دیگر متعلقہ قانونی تقاضوں کے تحت کیا گیا، جبکہ آپریشنل فٹنس سرٹیفکیٹ کے اجرا سے قبل تنصیب کی جانچ ایک آزاد تھرڈ پارٹی ٹیسٹنگ فرم سے بھی کروائی گئی۔

محکمہ کے مطابق تھرڈ پارٹی رپورٹ میں برقی حفاظت، ارتھنگ، انسولیشن، پروٹیکشن سسٹمز، انورٹرز اور دیگر آلات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد تصدیق کی گئی کہ سولر سسٹم اور اس سے متعلقہ تنصیبات قابلِ اطمینان اور مقررہ تکنیکی معیارات کے مطابق ہیں۔

محکمہ نے واضح کیا کہ معائنے کے دوران کوئی ایسی سنگین تکنیکی خامی سامنے نہیں آئی جس کی بنیاد پر نظام کی آپریشنل اجازت روکی جاتی۔ ادارے کے مطابق اس کا بنیادی کردار برقی تنصیبات کی حفاظت اور قانونی تقاضوں کی تعمیل کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت کا چھوٹے کسانوں کے لیے بلاسود قرض پروگرام کا اعلان

جوڈیشل اکیڈمی کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے حوالے سے محکمہ نے کہا کہ مبینہ تکنیکی خامیوں یا نامکمل معائنے سے متعلق الزامات سرکاری ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتے، اور نہ ہی کسی ایسے مادی نقص کی نشاندہی کی گئی ہے جو نظام کی محفوظ کارکردگی کو متاثر کرے۔

محکمہ الیکٹرک انسپکٹریٹ نے اپنے مؤقف میں مزید کہا ہے کہ معلومات چھپانے یا غلط رپورٹنگ کے الزامات بے بنیاد ہیں، اور معائنہ مکمل پیشہ ورانہ ذمہ داری اور قواعد کے مطابق انجام دیا گیا۔

مزید کہا گیا ہے کہ عوامی تحفظ محکمہ کی اولین ترجیح ہے، اور جوڈیشل اکیڈمی انتظامیہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ الیکٹرسٹی رولز 1937 کے تحت مجاز تکنیکی عملہ تعینات کرے اور سولر سسٹم کی باقاعدہ دیکھ بھال اور معائنے کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ بھی نظام محفوظ اور مؤثر انداز میں چلتا رہے۔

Scroll to Top