تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف پشاور یونیورسٹی کے ملازمین کا پریس کلب کے سامنے شدید احتجاج

یونیورسٹی آف پشاور ایمپلائیز ایسوسی ایشن کے ملازمین نے انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی جانب سے گزشتہ دو ماہ سے تنخواہوں اور پنشن کی عدم فراہمی کے خلاف پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔

مظاہرے کی قیادت یونیورسٹی آف پشاور ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمالک، کلاس فور یونین کے صدر امداد خان اور سینیٹیشن اسٹاف کے صدر لعزر مسیح نے کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ کلاس تھری، کلاس فور، سینیٹیشن ملازمین اور پنشن ہولڈرز گزشتہ دو ماہ سے تنخواہوں اور پنشن کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید مالی پریشانی میں مبتلا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تنخواہیں نہ ملنے سے ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، بچوں کو اسکولوں سے نکالا جا رہا ہے جبکہ دکانداروں نے اب انہیں ادھار سودا سلف دینا بھی بند کر دیا ہے۔

رہنماؤں نے واضح کیا کہ جامعہ پشاور پچھلے کئی سالوں سے مالی اور انتظامی مشکلات کا شکار ہے اور ملازمین مئی اور جون کی تنخواہ اور پنشن سے تاحال محروم ہیں، جبکہ ماہ اپریل کی 50 فیصد پنشن بھی اب تک واجب الادا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ خوابِ خرگوش میں سوئی ہوئی ہے جبکہ صوبائی حکومت مالی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر غیر سنجیدہ اور ناکام ثابت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے ہاسٹل میں افسوسناک واقعہ ، طالبعلم کی پراسرار ہلاکت

مظاہرین کے مطابق ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے فنڈز کی فراہمی کے لیے ارسال کردہ سمری بھی لٹک گئی ہے جس کی وجہ سے فنڈز ملنے کی کوئی امید باقی نظر نہیں آ رہی۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ خیبر پختونخوا کی جامعات کے ملازمین ملک میں سب سے کم تنخواہ لے رہے ہیں اور وہ ڈی آر اے 2022 کے 15 فیصد الاؤنس اور ڈی آر اے 2025 سے بھی محروم ہیں، جبکہ کئی پرانے الاؤنسز بھی کاٹ دیے گئے ہیں۔

مظاہرے کے اختتام پر ملازمین نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مئی اور جون کی تنخواہ اور پنشن کے لیے مطلوبہ فنڈز جلد از جلد جاری کیے جائیں تاکہ ملازمین قلم چھوڑ اور کام چھوڑ ہڑتال پر مجبور نہ ہوں۔

انہوں نے حکومت کو سخت وارننگ دی کہ اگر فنڈز کی فراہمی میں مزید تاخیر کی گئی تو وہ مجبورا یونیورسٹی روڈ پشاور کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہوگی۔

Scroll to Top