خیبرپختونخوا کے مجوزہ بجٹ کے حوالے سے جاری صورتحال میں حکومت کے اندرونی اختلافات کے بعد اپوزیشن نے بھی بجٹ کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے لانے کا مطالبہ کر دیا ہے، جس سے معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اور رکن اسمبلی ارباب محمد عثمان خان نے محکمہ خزانہ کو لکھے گئے خط میں بجٹ دستاویزات کی عدم فراہمی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ بجٹ کی مکمل تفصیلات اور متعلقہ معاون دستاویزات متعدد بار طلب کیے جانے کے باوجود فراہم نہیں کی گئیں، جس سے نہ صرف مالی شفافیت بلکہ اسمبلی کے نگرانی کے آئینی کردار پر بھی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
ارباب محمد عثمان خان کا کہنا ہے کہ بجٹ کی منظوری اور اس پر بروقت عمل درآمد میں تاخیر انتظامی مشکلات کا باعث بنتی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں، سروس ڈیلیوری اور عوامی سہولیات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اپنے خط میں انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ صوبے میں ترقیاتی فنڈز کے مؤثر استعمال کے حوالے سے بھی مسائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق اکثر ترقیاتی بجٹ یا تو مکمل طور پر خرچ نہیں ہو پاتا یا مالی سال کے اختتام پر جلد بازی میں استعمال کیا جاتا ہے، جس سے منصوبوں کی لاگت میں اضافہ اور معیار میں کمی واقع ہوتی ہے۔
انہوں نے محکمہ خزانہ سے مطالبہ کیا کہ بجٹ سے متعلق تمام دستاویزات اور تفصیلات فوری طور پر اسمبلی اور متعلقہ کمیٹیوں کو فراہم کی جائیں تاکہ بجٹ کے عمل کو شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔





