اعلیٰ سیکیورٹی ذرائع نے صحافیوں کو ایک انتہائی اہم اور تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے ملکی سلامتی، خارجہ پالیسی، ملٹری ڈپلومیسی اور خطے کی مجموعی صورتحال پر ریاست کا دوٹوک اور غیر مبہم موقف پیش کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اندرونی و بیرونی محاذ پر ملک دشمن عناصر اور سازشوں سے پوری قوت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔
سیکیورٹی ذرائع نے بھارت کی جانب سے پانی روکنے کی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اسے کیا جواب دینا ہے۔ پاک فوج، عوامی امنگوں اور حکومت کی ہدایات پر ہر وہ قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرے گی جس سے ملک پر مسلط کی جانے والی آبی جارحیت کو روکا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت اپنی عوام میں خود کو متعلق رکھنے کے لیے اوربھگوا رنگ میں رنگی بھارتی فوج اپنے 93 ارب ڈالر کے خطیر دفاعی بجٹ کا جواز پیش کرنے کے لیے صبح شام پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بناتی ہے اور پانی روکنے جیسی گیدڑ بھپکیاں دیتی ہے۔ پاکستان اس حوالے سے ہمہ وقت تیار ہے اور مکمل یکسوئی رکھتا ہے۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ بین الاقوامی مذاکرات اور امن معاہدوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی مدبرانہ اور صبر آزما کوششوں سے یہ جنگ بغیر لڑے جیتی ہے۔ پاکستان کا ہدف ہمیشہ خطے میں امن اور مسلم ممالک کے درمیان تناؤ کو کم کرنا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب، قطر، ترکی اور مصر کا کردار بھی قابلِ ستائش ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کسی دوسرے ملک کے تابع نہیں بلکہ بالکل آزاد ہے، جسے کثیر الہجہت سفارت کاری کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ اور ایران بحران میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان کی کامیاب ثالثی اور سفارتی کوششوں کا اصل چہرہ بن کر ابھرے، دی ڈپلومیٹ رپورٹ
سیکیورٹی ذرائع نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر انتہائی اہم حقائق سامنے لاتے ہوئے انکشاف کیا کہ کالعدم بی ایل اے (BLA) دراصل ‘فتنہ الہندوستان’ ہے، جو خالصتاً ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس کی سرپرستی بھارت کے علاوہ کچھ یورپی عناصر کر رہے ہیں۔ پاکستان دشمن عناصر بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں اور ریاست مخالف بیانیے کی تشکیل و ترویج براہِ راست بھارت اور بیرونی آقاؤں کی طرف سے کی جا رہی ہے۔
اعلی سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ یہ نام نہاد بیانیے کی جنگ صرف سوشل میڈیا تک محدود ہے اور زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ بلوچستان کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں 32 ہزار کلومیٹر پر محیط سڑکیں اور ہائی ویز ہیں، جن پر روزانہ 18 ہزار سے زائد گاڑیوں کی محفوظ آمدورفت ہوتی ہے۔ یہ دہشت گرد صوبے کی اسی وسعت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہیں اکا دکا گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور پھر ان کے سہولت کار اور بیرونِ ملک بیٹھے ہینڈلرز ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا اور مخصوص بیرونی میڈیا کے ذریعے پھیلا کر پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ فتنہ الہندوستان اور اس کے سرپرستوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے اب خواتین کو استعمال کرنے کی مکروہ حکمتِ عملی اپنائی ہے، جو نہ صرف اسلام بلکہ بلوچ روایات کے بھی سراسر متصادم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بلوچستان کے طول و عرض میں عوام کے اندر فتنہ الہندوستان کے خلاف شدید نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔
صوبے کی معاشی ترقی پر بات کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حکومتِ بلوچستان ضلعی سطح پر فنڈز کی شفاف تقسیم، منصوبوں کے درست انتخاب اور بروقت عمل درآمد کے ذریعے بہترین نتائج پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ریکوڈک اور کان کنی کے دیگر منصوبے بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اہم سنگِ میل ہیں۔ ان منصوبوں سے حاصل ہونے والے فوائد اور بلوچستان کو ملنے والی رائلٹی صوبے کی ترقی میں خاص اہمیت کی حامل ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے معاشی اصول واضح کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی علاقے سے نکلنے والی معدنیات کی کھپت صرف اسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس کو ایکسپورٹ اور پروسیسنگ کے ذریعے ملکی ترقی کا ذریعہ بنایا جاتا ہے اور اس کے اصل فوائد عوام کو حاصل ہوتے ہیں۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ “بلوچستان کی ترقی میں ہی پاکستان کی ترقی ہے”۔
سیکیورٹی ذرائع نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل حصہ ہے۔ 1948 میں لڑی جانے والی پہلی جنگ پاک فوج، کشمیریوں اور قبائل نے مل کر لڑی تھی اور اب تک اس محاذ پر 5 جنگیں ہو چکی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر آج دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی بن چکا ہے، لیکن وہاں کے غیور مسلمانوں کے جذبات کو بھارت کی نام نہاد ترقی یا مالی سبسڈیز سے خریدا نہیں جا سکتا۔ آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی کوششیں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو ختم نہیں کر سکتیں۔ وادی میں آج بھی صرف ایک ہی نعرہ گونجتا ہے کہ “کشمیر بنے گا پاکستان” اور “ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر انتہائی تشویشناک حقائق سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی شروع میں عوامی مسائل لے کر نکلی تھی۔ ریاست نے پرامن راستہ اختیار کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں ان کے 14 مطالبات مانے، اور جب وہ اگلے مرحلے میں 38 مطالبات لے کر آئے تو ریاست نے ان میں سے بھی 37 مطالبات منظور کر لیے۔ گزشتہ دو سال سے حکومت نے جو کچھ سستا مانگا فراہم کیا۔ 12 سیٹوں کے معاملے پر آل پارٹی کانفرنس بلائی گئی اور سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے بھی فیصلہ دیا کہ یہ آئین کا حصہ ہے اور کوئی بھی مسلح جتھہ زور زبردستی اپنا فیصلہ نہیں منوا سکتا۔ ان کو دو ماہ بعد ہونے والے الیکشن میں حصہ لینے کا آپشن بھی دیا گیا لیکن انہوں نے الیکشن کے بجائے انتشار کو چنا۔
ذرائع نے بتایا کہ راولاکوٹ میں انتشار پھیلانے کی پلاننگ اب سب کے سامنے آ چکی ہے اور ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے ارکان کی آڈیو گفتگو اسی لیے پبلک کی گئی تاکہ عوام ان کے عزائم دیکھ سکیں۔ راولاکوٹ CMH میں ایک مقامی پولیس اہلکار کو اس کے داماد (جو خود کانسٹیبل ہے) کے سامنے ننگا کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور پھر اس کا پیٹ چیر کر آنتیں باہر نکال دی گئیں۔ یہ ہولناک کارروائی عمر نذیر، امان ادریس اور خواجہ مہران کی سرپرستی میں ہوئی۔ اسی طرح اسلام آباد پولیس کے ایک اے ایس آئی (ASI) کو، جو اپنی والدہ کی وفات پر جا رہا تھا، راستے میں روک کر شدید زخمی کیا گیا۔ مظاہروں میں کھلے عام فائرنگ اور لوٹ مار کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ بند ہے اور دکاندار دکانیں نہیں کھول پا رہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے واضح انتباہ دیا کہ اب جب کہ ان عناصر کا اصل چہرہ اور مذموم مقاصد مکمل طور پر عیاں ہو چکے ہیں، تو ریاست اب ان سے اسی سخت طریقے سے نمٹے گی جس کے یہ مستحق ہیں۔
دفاعی بجٹ کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ بجٹ بڑھا کر 3 ہزار ارب روپے کر دیا گیا ہے، لیکن مہنگائی کی شرح اس کی حقیقی مالیت کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔ اس مختص کردہ بجٹ کا 80 فیصد سے زائد حصہ لازمی اخراجات کی طرف جاتا ہے، جس میں راشن، مینٹیننس (Maintenance) اور تنخواہیں شامل ہیں۔ یہ لازمی اخراجات واپس ملکی معیشت میں شامل ہو کر اِسی کو استحکام فراہم کرتے ہیں۔ ان اخراجات کے بعد ساز و سامان کی خریداری، ترقیاتی منصوبوں اور سپاہ کی استعداد بڑھانے کے لیے ایک انتہائی محدود حصہ ہی باقی بچتا ہے۔
ذرائع نے موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت کا دفاعی بجٹ 90 بلین ڈالر سے زائد ہے، جو پاکستان کے دفاعی بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کی افواج انتہائی محدود وسائل کے باوجود بیک وقت روایتی، تکنیکی اور دہشت گردی کی جنگ لڑ رہی ہیں اور اس کی تیاری میں مصروف ہیں۔ مستقبل کی جنگ تکنیکی استعداد میں بہتری کی متقاضی ہے جبکہ انسدادِ دہشت گردی کی جنگ میں افرادی قوت پر انحصار بھی ہے۔ اس کثیر الجہتی آپریشنل صلاحیت کے پیشِ نظر دفاعی بجٹ میں کیا جانے والا اضافہ مستقبل کی سیکیورٹی اور عسکری ضروریات کی وجہ سے ہے۔ اگر ضرورت اس سے زیادہ بھی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں، آپ کی افواج دفاعِ وطن کے لیے فخر کے ساتھ ہمہ وقت تیار ہے۔





