پاکستان میں سولر پینلز اور بیٹریوں کی مقامی مینوفیکچرنگ کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اس سلسلے میں نئی سولر پالیسی آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔
وفاقی حکومت نے ملکی صنعت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے، سستی و قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور اربوں ڈالرز کے امپورٹ بل سے نجات پانے کے لیے اس انقلابی اور جامع سولر پالیسی کو حتمی شکل دی ہے۔ اس نئی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان اب شمسی توانائی کے آلات باہر سے منگوانے کے بجائے انہیں اپنے ہی ملک میں تیار کرے گا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اہم انکشافات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس نئی پالیسی کا بنیادی ہدف پاکستان کو سولر پینلز کی محض اسمبلنگ تک محدود رکھنے کے بجائے مکمل مینوفیکچرنگ یعنی مقامی سطح پر تیاری کی طرف منتقل کرنا ہے۔ اس اقدام سے ملک میں سولر پینلز کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی آئے گی، مقامی پیداواری صلاحیت بڑھے گی اور شعبے میں تکنیکی جدت کو فروغ ملے گا۔
معاون خصوصی نے ایک اور اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت اب سولر پینلز کے ساتھ ساتھ بیٹری ٹیکنالوجی پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دن کے وقت سولر سے بننے والی سستی بجلی کو اسٹور کر کے رات کے وقت بھی استعمال میں لایا جا سکے۔ منصوبے کے تحت یہ بیٹریاں اور سولر انرجی کا دیگر تمام ضروری سامان بھی اب مقامی سطح پر ہی تیار کیا جائے گا۔
ہارون اختر خان نے واضح کیا کہ سولر پینلز اور بیٹریوں کی مقامی مینوفیکچرنگ سے پاکستان میں ماحول دوست اور سستی بجلی کی منتقلی کا عمل انتہائی تیز ہو جائے گا۔ اس منصوبے سے نہ صرف ملک میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ بڑے پیمانے پر نئی سرمایہ کاری بھی راغب ہوگی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پالیسی کے نفاذ سے سولر آلات کی درآمد پر خرچ ہونے والا ملک کا قیمتی زرِ مبادلہ بچے گا، ملکی صنعتیں عالمی مارکیٹ کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں گی اور پاکستان کو طویل مدتی توانائی کا تحفظ حاصل ہو سکے گا۔





