بجٹ ملازمین کو ایک تنخواہ بطور بونس دینے کا فیصلہ

حکومت نے بجٹ کی تیاری اور مالی امور میں مصروف محکمہ خزانہ کے ملازمین کے لیے خصوصی ریلیف دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت انہیں ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ بطور بونس دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ خزانہ کے ملازمین کے لیے ایک خصوصی سمری تیار کر لی گئی ہے، جس میں بجٹ سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کرنے والے ملازمین کو ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ بطور بونس دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ سمری سیکرٹری خزانہ کی جانب سے متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے، جبکہ حتمی منظوری کے لیے اسے متعلقہ فورم پر پیش کیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان ملازمین کی خدمات کے اعتراف میں کیا جا رہا ہے جو بجٹ کی تیاری، مالی پالیسیوں کی تشکیل اور دیگر اہم مالی معاملات میں مسلسل کام کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت اس فیصلے کو ملازمین کی کارکردگی کو سراہنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے طور پر دیکھ رہی ہے تاکہ مالی امور سے متعلق ذمہ داریاں مزید بہتر انداز میں انجام دی جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں : مرکزی مسلم لیگ کے رہنما کے گھر سے افسوسناک خبر، ہر آنکھ نم ہوگئی

فیصلے کی خبر سامنے آنے پر محکمہ خزانہ کے ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ملازمین نے اس ممکنہ بونس کو اہم مالی ریلیف قرار دیتے ہوئے حکومت کے اقدام کو سراہا۔

ملازمین کا کہنا ہے کہ اضافی تنخواہ سے معاشی دباؤ کم ہوگا جبکہ اس سے کام کرنے کے جذبے اور کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔

رپورٹس کے مطابق اگر سمری کی منظوری دے دی جاتی ہے تو محکمہ خزانہ کے بجٹ ملازمین کو رواں مالی سال میں ایک اضافی تنخواہ بطور بونس ادا کر دی جائے گی۔

Scroll to Top