پشاور میں دفعہ 144 نافذ

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) پشاور کی جانب سے ایک جامع 24 نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے نافذ کی جانے والی ان پابندیوں کا مقصد شہر میں سیکیورٹی کو فول پروف بنانا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر افغان باشندوں کے پشاور شہر میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہر کی حدود میں ہر قسم کے ڈرون کیمرے اڑانے، دیواروں پر چاکنگ کرنے (وال چاکنگ)، گاڑیوں کے کالے شیشے استعمال کرنے، ہوائی فائرنگ اور اسلحے کی نمائش پر سخت پابندی ہوگی۔

ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : جنگلات میں آگ لگنے کا خدشہ، مردان میں دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ خطرے کے سدِباب کے لیے جلوس کے راستوں پر لوگوں کے کھڑے ہونے، گیس سلینڈر فروخت کرنے اور ہر قسم کی تعمیراتی سرگرمیوں پر عبوری پابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ تیزاب اور بارودی مواد کے استعمال کو بھی سختی سے روک دیا گیا ہے۔

شہری سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ٹرانسپورٹ سیکٹر پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ نئے احکامات کے تحت غیر رجسٹرڈ گاڑیوں، غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں اور خود ساختہ (فینسی) نمبر پلیٹ کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔

انتظامیہ نے موٹر سائیکل اور گاڑیاں کرائے پر دینے کے کاروبار کے لیے بھی سخت شرائط لاگو کر دی ہیں تاکہ کوئی بھی مشکوک شخص ان کا استعمال نہ کر سکے۔ یہ تمام پابندیاں اگلے ایک ماہ تک شہر بھر میں سختی سے نافذ العمل رہیں گی۔

Scroll to Top