امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ 14 نکاتی معاہدے کی تفصیلات جاری

امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ چار ماہ سے جاری شدید جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک تاریخی امن دستاویز تیار کی گئی ہے جسے باقاعدہ طور پر اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کی مرکزی ثالثی، اور قطر، ترکی اور سعودی عرب کے تعاون سے طے پایا ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اس 14 نکاتی معاہدے کا باقاعدہ متن جاری کر دیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کی بنیادی شرائط طے کی گئی ہیں۔

اس معاہدے کا اصل مقصد ایک عارضی فریم ورک قائم کرنا ہے جس کے تحت اگلے 60 دنوں کے دوران دونوں ممالک کے تکنیکی وفود مستقل امن اور جوہری معاملات پر تفصیلی مذاکرات کریں گے۔ اس معاہدے کے اہم ترین نکات اور تفصیلات درج ذیل ہیں۔

معاہدے کی پہلی شق کے تحت امریکہ، ایران اور ان کے تمام اتحادی بشمول لبنان میں موجود گروپ تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں اور جنگی اقدامات کو فوری اور مستقل طور پر روکنے کے پابند ہوں گے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی علاقائی خودمختاری اور سالمیت کا احترام کریں گے اور کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

امریکہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا اور 30 دنوں کے اندر اس ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمزکو تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا، تاہم اس کا کنٹرول ایران کے پاس رہے گا اور وہ وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کر سکے گا۔

اس معاہدے کی ایک اہم ترین شق یہ ہے کہ امریکی وزارتِ خزانہ (ڈیپارٹمنٹ آف ٹریژری) ایرانی خام تیل، پیٹرو کیمیکل مصنوعات اور ان سے منسلک بینکنگ ٹرانزیکشنز پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر معطل کر کے خصوصی چھوٹ (Waivers) جاری کرے گی جس سے ایران فوری طور پر عالمی مارکیٹ میں اپنا تیل بیچنے کے قابل ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ ایران کے منجمد کیے گئے تقریباً 25 ارب ڈالر کے اثاثے بھی مرحلہ وار بحال کیے جائیں گے۔

معاہدے میں ایران کی اقتصادی بحالی اور جنگ سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو کے لیے ایک جامع منصوبہ شامل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایران کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے فنڈز کو یقینی بنایا جائے گا، تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ رقم براہِ راست امریکی حکومت کے خزانے سے نہیں جائے گی بلکہ اس میں نجی شعبے اور خطے کے دیگر ممالک کا سرمایہ شامل ہو گا۔

ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار یا حاصل نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے پاس موجود انتہائی افزودہ شدہ یورینیم کے ذخیرے کو تلف (Dilute) کرنے کے لیے ایک مخصوص طریقہ کار پر عمل کرنے کا پابند ہوگا۔ جوہری پروگرام کی کڑی نگرانی اور حتمی ضوابط طے کرنے کے لیے 60 روزہ تکنیکی کمیٹیاں کام شروع کریں گی۔

Scroll to Top