خیبرپختونخوا کابینہ کا اہم اجلاس مکمل ہونے کے بعد مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔
صوبائی کابینہ نے 48 ارب روپے خسارے پر مشتمل بجٹ کی منظوری دی ہے جبکہ بجٹ کا مجموعی حجم 1.52 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے 902 ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں جن کا مقصد صوبے میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنا اور عوامی سہولیات میں بہتری لانا ہے۔
کابینہ نے ٹیکس نظام میں ردوبدل کی بھی منظوری دے دی ہے، جبکہ بعض اقسام کے ٹیکسز ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے لیے 519 ارب 10 کروڑ 39 لاکھ 10 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جس میں صوبے کے مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا بجٹ، رہائشی جائیداد اور گاڑیوں پر ٹیکس سے متعلق نئی تجاویز سامنے آگئیں
بجٹ دستاویزات کے مطابق بندوبستی اضلاع کے لیے 427 ارب 18 کروڑ 27 لاکھ روپے جبکہ قبائلی اضلاع کے لیے 39 ارب 63 کروڑ 72 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ضم اضلاع کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 52 ارب 28 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مجموعی طور پر 2 ہزار 765 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، جن میں 2 ہزار 70 منصوبے بندوبستی اضلاع جبکہ 318 منصوبے ضم اضلاع سے متعلق ہیں۔ اس کے علاوہ تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے 377 منصوبے بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔
دستاویزات کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ایک ہزار 201 نئے ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جبکہ تمام منصوبوں کی تکمیل کے لیے مجموعی طور پر 2 ہزار 448 ارب روپے درکار ہوں گے۔ ترقیاتی پروگرام کا تھرو فارورڈ 7.7 سال مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ میں سب سے زیادہ رقم سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے لیے مختص کی گئی ہے، جس کے لیے 39 ارب 49 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ شہری ترقی کے شعبے کے لیے 38 ارب 24 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح ملٹی سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 20 ارب 7 کروڑ روپے جبکہ داخلہ کے شعبے کے لیے 20 ارب 17 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
صحت کے شعبے کے لیے 16 ارب 33 کروڑ روپے، صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے 10 ارب 31 کروڑ روپے، ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 7 ارب 25 کروڑ روپے اور کھیل و سیاحت کے فروغ کے لیے 6 ارب 63 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق بلدیات کے شعبے کے لیے 5 ارب 57 کروڑ روپے جبکہ زراعت کے شعبے کے لیے 5 ارب 23 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔





