اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے خطے میں امن کے قیام کی راہ ہموار کی اور دنیا کو ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے خطرات سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے بقول وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جو کردار ادا کیا ہے، وہ نوبل امن انعام سے بھی بڑھ کر ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد خطے میں امن اور استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل عاصم منیر نہ صرف بہترین سپہ سالار بلکہ بہترین سفارتکار بھی ہیں، امریکی نائب صدر
انہوں نے کہا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے، اس لیے امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں نہایت اہم تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں نے تنازع کے حل اور امن کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا۔
ایک صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا ثالثی کے اس کردار پر پاکستان کو نوبل پیس پرائز ملنا چاہیے؟ اس پر رانا ثنا اللہ نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ نوبل پیس پرائز کمیٹی نے کرنا ہے کہ یہ اعزاز کس کے حصے میں آتا ہے، تاہم ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات اس اعزاز سے بھی بالاتر ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جنگی صورتحال کے خاتمے سے نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی یا خاتمے کی صورت میں توانائی کے متعدد منصوبوں پر پیش رفت ممکن ہوگی۔
ان کے مطابق ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی سے ملک کے توانائی بحران میں کمی آسکتی ہے جبکہ توانائی کی بہتر فراہمی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت انتخابات کے انعقاد میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں : عسکری میدان کے فاتح، سفارتی محاذ کے مؤثر کردار، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آزاد کشمیر میں شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہوں گے اور وہاں کے مسائل کا حل منتخب قیادت ہی نکالے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کے بعد آزاد کشمیر کی منتخب قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی، پاکستان اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق تمام سیاسی اور قومی مسائل کا حل مذاکرات میں پوشیدہ ہے اور جب سیاسی قیادت بات چیت کے لیے ایک میز پر بیٹھتی ہے تو بڑے سے بڑے تنازعات بھی حل ہو جاتے ہیں۔
اپوزیشن سے مذاکرات کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف چوتھی بار براہ راست اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کی اپوزیشن سے بات بھی ہوئی ہے اور انہیں مثبت جواب کی توقع ہے۔
وفاقی کابینہ میں ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس حوالے سے زیر گردش خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں۔
ان کے مطابق وزیراعظم نے ابھی تک نہ کابینہ میں توسیع، نہ ردوبدل اور نہ ہی کمی سے متعلق کوئی بات کی ہے، تاہم آئینی طور پر یہ اختیار وزیراعظم کے پاس ہے کہ وہ جب چاہیں کابینہ میں تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔





