سوئٹزرلینڈ میں 4 فریقی مذاکرات مکمل، ایرانی وفد واپس روانہ، سرکاری میڈیا

سوئٹزرلینڈ: پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے 4 فریقی مذاکرات مکمل ہوگئے، جس کے بعد ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ سے واپس روانہ ہوگیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مذاکرات کے اختتام کے بعد مشترکہ اعلامیہ کچھ دیر میں جاری کیا جائے گا، جس میں مذاکرات سے متعلق تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

امریکی سفارتکار کے مطابق مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے معاملے پر پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت میں بعض اہم امور پر مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے دیے گئے بیانات اور دھمکیوں کے بعد ایرانی وفد نے امریکی وفد کے سامنے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا تھا، جس کے بعد مذاکراتی عمل میں تعطل پیدا ہوگیا تھا۔

ایرانی وفد سے متعلق ذرائع نے امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹ ضرور آئی ہے، تاہم بات چیت کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، ایرانی سپیکر کا ٹرمپ کے بیان پر ردعمل

ایرانی ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل کو دوبارہ آگے بڑھانے کے لیے بیک چینل رابطے جاری ہیں اور سفارتی وفود کی واپسی کے حوالے سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایران امریکا مذاکرات کے پہلے دور کے بعد دوسرا مرحلہ شروع نہیں ہو سکا تھا، جس کے باعث بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی۔

دوسری جانب ایرانی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے مذاکرات میں مزید شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ ایرانی وفد کے رکن مہدی قربان زادہ کا کہنا ہے کہ لبنان کے مسئلے کے حل تک دیگر معاملات پر مزید بات چیت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بعض اہم معاملات پر پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ پہلے بنیادی مسائل کو حل کیا جائے۔

Scroll to Top