ایران جنگ کے باوجود تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک نہ پہنچ سکیں اور برینٹ خام تیل 78 ڈالر سے نیچے آ گیا، جس کی بڑی وجہ چین کی طلب میں تبدیلی اور عالمی سپلائی میں ممکنہ بہتری ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا مستقبل اب صرف مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں چین کے فیصلوں اور پالیسیوں کا کردار بھی نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں عالمی تیل مارکیٹ کی سمت کا تعین چین کی اقتصادی اور توانائی پالیسیوں سے بھی متاثر ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں حالیہ جنگ کے بعد روزانہ 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل سے زائد تیل کی سپلائی متاثر ہوئی، تاہم اس کے باوجود عالمی منڈی میں قیمتوں میں وہ شدید اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جس کی ابتدائی طور پر پیشگوئی کی جا رہی تھی۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، تاہم صورتحال اس حد تک نہیں پہنچی۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ تحقیقی ادارے “ایمبر” کے ماہر دان والٹر کے مطابق چین نے عالمی توانائی منڈی کو استحکام دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق چین نے تیل کی درآمدات میں کمی، اپنے ذخائر کے استعمال اور قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ذریعے اندرونی اور عالمی سطح پر قیمتوں کے دباؤ کو کم کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی ان حکمتِ عملیوں کے باعث ایشیا سمیت عالمی معیشت کو بڑے جھٹکوں سے بچایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں۔
دوسری جانب گزشتہ روز برینٹ خام تیل کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی، جس کی بڑی وجہ یہ توقعات ہیں کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل جلد معمول پر آ جائے گی۔ سرمایہ کار اس وقت عالمی سیاسی صورتحال اور توانائی سپلائی چین میں ممکنہ بہتری پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آئندہ عرصے میں عالمی تیل مارکیٹ کا رجحان نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی بلکہ چین کی صنعتی طلب اور توانائی پالیسیوں سے بھی براہِ راست متاثر ہوگا۔





