محمد اعجاز آفریدی/صابحہ شیخ
خیبرپختونخوا حکومت نے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں انتظامی و سیکیورٹی بحران کے بعد وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کو فوری طور پر 90 روز کے لیے جبری رخصت پر بھیج دیا ہے۔
محکمہ ہائیر ایجوکیشن خیبرپختونخواکی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کارروائی انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر گومل یونیورسٹی ایکٹ 2012 کے تحت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی منظوری سے کی گئی ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صوبائی حکومت نے یونیورسٹی کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے سینئر ترین ایڈمنسٹریٹو آفیسر (بی پی ایس-19) عمران اللہ خان کو مستقل احکامات تک گومل یونیورسٹی کا نیا رجسٹرار بھی تعینات کر دیا ہے۔
دوسری جانب یونیورسٹی میں پیدا ہونے والے سنگین مسائل کی تفصیلی انکوائری کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
اس کمیٹی کے کنوینر کمشنر ڈی آئی خان ہوں گے، جبکہ وائس چانسلر یونیورسٹی آف پشاور اور رجسٹرار یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں کو بطور ممبر کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گومل یونیورسٹی میں جعلی ڈگریوں اور مالی بے ضابطگیوں کا بڑا سکینڈل بے نقاب
تحقیقاتی کمیٹی کے لیے جاری کردہ ٹی او آرز (TORs) کے مطابق یہ کمیٹی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس مبینہ واقعے کی تحقیقات کرے گی جس میں یونیورسٹی کے سیکیورٹی آفیسر نے لاء کالج کے طالب علم پر فائرنگ کی تھی۔ اس کے علاوہ ہاسٹل نمبر 1 میں منشیات کی مبینہ فروخت و استعمال اور اس سے جنم لینے والے حالیہ تنازع کی جڑ تک پہنچا جائے گا۔
کمیٹی کو یونیورسٹی میں غیر میرٹ پر ہونے والی بھرتیوں، مالیاتی امور، مجموعی سیکیورٹی پروٹوکولز اور ہاسٹل مینجمنٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی تمام اسٹیک ہولڈرز کے بیانات قلمبند کرنے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے افسران کا تعین کرنے کے بعد 14 روز کے اندر اپنی حتمی رپورٹ محکمہ ہائیر ایجوکیشن کو پیش کرنے کی پابند ہوگی۔





