ایران،امریکا معاہدے کے بعد ریال کی اُڑان، کیا سرمایہ کاروں کی قسمت بدلنے والی ہے؟جانئے

ایران،امریکا معاہدے کے بعد ریال کی اُڑان، کیا سرمایہ کاروں کی قسمت بدلنے والی ہے؟جانئے

ایران امریکا معاہدے کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں اضافہ شروع ہو گیا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین اسے پابندیوں میں ممکنہ نرمی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ معاہدے کے بعد ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں بہتری کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی بڑھ گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ایران پر عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی کی توقعات نے ریال کی مانگ میں اضافہ کیا ہے۔

چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن پاکستان، ملک بوستان نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی پابندیوں میں نرمی کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان کے مطابق 2016 میں ایران پر سے بعض پابندیاں ہٹنے کے بعد ایک کروڑ ایرانی ریال کی مالیت 10 سے 12 ہزار پاکستانی روپے سے بڑھ کر 60 ہزار روپے تک جا پہنچی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ کشیدگی اور جنگی خدشات کے دوران ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں کمی آئی، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کی فضا پیدا ہونے اور معاہدے کے بعد ریال کی قیمت دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سرمایہ کار مستقبل میں مزید اضافے کی توقع کرتے ہوئے ایرانی کرنسی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

ملک بوستان کے مطابق ایرانی ریال میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، تاہم اس کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ اگر سیاسی صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو گئی یا معاہدہ کسی وجہ سے متاثر ہوا تو ریال کی قدر میں دوبارہ کمی آ سکتی ہے، جبکہ معاہدے کے کامیاب نفاذ کی صورت میں اس کی قیمت میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

انہوں نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ طویل المدتی منصوبوں کے بجائے محدود اور محتاط سرمایہ کاری کریں۔ ان کے مطابق مختصر مدت کے لیے سرمایہ کاری نسبتاً محفوظ حکمت عملی ہو سکتی ہے، جبکہ زیادہ سرمایہ لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔

ملک بوستان نے یہ بھی کہا کہ ایران پر پابندیوں میں نرمی سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے سے پاکستان کو بھی معاشی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔

Scroll to Top