خیبرپختونخوا کے پہاڑی اور بالائی علاقوں پر گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرے کے پیش نظر پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو متحرک ہونے کا حکم دے دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں جاری گرمی کی شدید لہر اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے نے برفانی تودوں کے پگھلاؤ کی رفتار تیز کر دی ہےجس سے ان جھیلوں میں پانی کا دباؤ بڑھنے اور اچانک پہاڑی سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس ممکنہ ماحولیاتی خطرے سے نمٹنے کے لیے پی ڈی ایم اے نے اپر و لوئر چترال، سوات، اپر دیر، کوہستان اور مانسہرہ کی انتظامیہ کو ہنگامی مراسلہ جاری کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات اٹھانے کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ حساس پہاڑی سلسلوں پر نظر رکھنے کے لیے مانیٹرنگ کا نظام سخت کرے تاکہ خطرے کی گھنٹی بجتے ہی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔
کسی بھی ناگہانی آفت یا ہنگامی صورتحال کے دوران فوری ریسپانس کے لیے ریسکیو 1122 اور بلدیاتی اداروں کو بھاری مشینری اور ضروری امدادی سامان کے ساتھ الرٹ رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب حکام نے مقامی آبادی اور بالائی علاقوں کا رخ کرنے والے سیاحوں کو محتاط رہنے کی تاکید کی ہے کہ وہ ندی نالوں کےقریب جانے گریز کریں اور موسم کی بدلتی صورتحال سے باخبر رہیں۔





