پشاور ہائیکورٹ نے بی آر ٹی کو بھیجا گیا ایف بی آر کا 109 ملین روپے ٹیکس کا نوٹس معطل کر دیا

پشاور ہائیکورٹ نے بی آر ٹی کو بھیجا گیا ایف بی آر کا 109 ملین روپے ٹیکس کا نوٹس معطل کر دیا

پشاور ہائیکورٹ (پی ایچ سی) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کو جاری کیا گیا 109 ملین روپے کا ایڈوانس ٹیکس نوٹس معطل کر دیا ہے۔

عدالتِ عالیہ نے وفاقی حکومت، کمشنر ان لینڈ ریونیو، ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب سمیت طلب کر لیا ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایف بی آر کے نوٹس کے خلاف بی آر ٹی کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران بی آر ٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ ناصر محمود اور ایڈووکیٹ شجاع عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ بی آر ٹی نے سال 2025ء کے لیے 12 ملین روپے کے گوشوارے جمع کرائے ہیں اور جو ایڈوانس ٹیکس بنتا تھا وہ بھی جمع کیا جا چکا ہے جسے ایف بی آر نے باقاعدہ وصول کیا۔

وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ ایف بی آر نے اسسمنٹ آرڈر میں کسی قسم کی ترمیم کیے بغیر ہی بی آر ٹی کو 109 ملین روپے کا ایڈوانس ٹیکس جمع کرانے کا نوٹس جاری کر دیا اور اب بی آر ٹی سے زبردستی 85 ملین روپے مانگے جا رہے ہیں۔

وکیلِ صفائی نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ بی آر ٹی کے پاس موجود رقم حکومتی فنڈ ہے اور حکومت کہیں بھاگ نہیں رہی، اسسمنٹ آرڈر میں ترمیم کے بغیر ایسا نوٹس جاری کرنا قانوناً درست نہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ایف بی آر کا یہی رویہ رہا تو بی آر ٹی کا پہیہ رک جائے گاجس سے روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں عام شہری شدید متاثر ہوں گے۔

عدالت عالیہ نے بی آر ٹی کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ایف بی آر کا ٹیکس نوٹس فوری طور پر معطل کر دیا اور مدعا علیہان کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔

Scroll to Top