عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے بعد دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں اسپاٹ گولڈ جون کے بعد کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔
عالمی منڈی میں جمعرات کے روز سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ امریکہ میں روزگار سے متعلق توقعات سے کمزور معاشی اعداد و شمار اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی قرار دی جا رہی ہے۔ سرمایہ کار اب آئندہ امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ کے منتظر ہیں، جو فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی کے آئندہ فیصلوں پر اہم اثر ڈال سکتی ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 4,057.92 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سیشن میں جون کے بعد کی بلند ترین سطح کے قریب رہی تھی۔ دوسری جانب امریکی سونے کے فیوچرز معمولی کمی کے ساتھ 4,070.10 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوتے رہے۔
بدھ کے روز سونے کی قیمتیں ابتدائی طور پر تقریباً سات ماہ کی کم ترین سطح کے قریب 4,029.89 ڈالر فی اونس تک گرنے کے بعد بند ہوئیں، تاہم بعد ازاں امریکی نجی شعبے کی کمزور روزگار رپورٹ کے باعث مارکیٹ میں دوبارہ بہتری دیکھنے میں آئی۔
معاشی اعداد و شمار کے مطابق امریکی نجی شعبے میں ملازمتوں میں اضافہ 98 ہزار ریکارڈ کیا گیا، جو مارکیٹ کی توقعات سے کم تھا۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں میں یہ توقع بڑھا دی ہے کہ آئندہ سرکاری لیبر ڈیٹا بھی کمزور آسکتا ہے، جس سے فیڈرل ریزرو کی شرح سود کی پالیسی پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق سونا عام طور پر افراطِ زر اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران محفوظ سرمایہ سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش نسبتاً کم ہو جاتی ہے کیونکہ اس پر کوئی منافع حاصل نہیں ہوتا۔
دوسری جانب فیڈرل ریزرو کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں افراطِ زر کے خدشات میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم مرکزی بینک کا ہدف اب بھی 2 فیصد افراطِ زر برقرار رکھنا ہے۔
ادھر خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے بھی سونے کی عالمی منڈی پر اثر ڈالا ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کے نہ ہونے کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ پر مرکوز ہیں، جو آئندہ دنوں میں عالمی مالیاتی منڈیوں کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔





