اگلا ہفتہ فیصلہ کن؟ مائیکروسافٹ میں بڑی چھانٹی کا امکان

واشنگٹن: عالمی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اخراجات میں کمی اور کاروباری حکمت عملی کو ازسرِنو ترتیب دینے کے لیے ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس سے کمپنی کے متعدد شعبے متاثر ہوں گے۔

کمپنی ذرائع کے مطابق مجوزہ برطرفیوں سے سیلز، کنسلٹنگ اور مشہور گیمنگ پلیٹ فارم **ایکس باکس** ڈویژن میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین متاثر ہوں گے، جبکہ ان برطرفیوں کا باضابطہ اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ کٹوتی مائیکروسافٹ کی تقریباً دو لاکھ 20 ہزار ملازمین پر مشتمل عالمی افرادی قوت کے 2.5 فیصد سے بھی کم حصے کو متاثر کرے گی، اور اس کا حجم گزشتہ برس کی جانے والی برطرفیوں کے مقابلے میں نسبتاً محدود ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکس باکس گیمنگ ڈویژن کی نئی چیف آشا شرما کی جانب سے ملازمین کو بھیجے گئے حالیہ میمو کے بعد سے ہی اس نوعیت کی تنظیمِ نو اور ممکنہ برطرفیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں۔ کمپنی اس وقت اپنے گیمنگ کاروبار کے آپریشنز کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف سطحوں پر تبدیلیاں متوقع ہیں۔

مائیکروسافٹ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری اور اخراجات میں نمایاں اضافہ کر رہی ہے۔ کمپنی روایتی آپریشنل اخراجات میں کمی لا کر AI منصوبوں کے لیے وسائل مختص کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سپریم کورٹ جیل اصلاحات کانفرنس، ’’اسلام آباد اعلامیہ‘‘ پر چاروں وزرائے اعلیٰ کے دستخط

رپورٹس کے مطابق وال اسٹریٹ اور سرمایہ کاروں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت روایتی سافٹ ویئر سروسز کی جگہ لے سکتی ہے، جس کے باعث گزشتہ ایک ماہ کے دوران مائیکروسافٹ کے شیئرز میں 19 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جسے ڈاٹ کام دور کے بعد کمپنی کی بدترین ماہانہ کارکردگی قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں مائیکروسافٹ نے امریکا میں اپنے ملازمین کے لیے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ پروگرام بھی متعارف کرایا تھا۔

اس پروگرام کے لیے تقریباً 9 ہزار ملازمین اہل تھے، جن میں سے تقریباً ایک تہائی ملازمین نے کمپنی کی پیشکش قبول کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑ دی تھی۔

Scroll to Top