اسلام آباد: حکومتی اور باخبر قانونی ذرائع کے مطابق عدالت نے عمران خان کے لیے صرف میڈیکل بورڈ کے ذریعے معمول کے طبی معائنے کا حکم دیا تھا، تاہم بعض پی ٹی آئی سے وابستہ میڈیا حلقوں نے اس حکم کو اسپتال منتقلی کے طور پر پیش کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کو مستقل یا باقاعدہ اسپتال منتقلی کا حکم قرار دینا درست نہیں، بلکہ معاملہ معمول کے طبی معائنے سے متعلق ہے۔
حکومتی ذرائع نے اس طرزِ رپورٹنگ کو زرد صحافت قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عدالتی حکم کو سیاسی بیانیے کے لیے مختلف انداز میں پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت کا ردعمل آگیا
ذرائع کے مطابق طبی معاملات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے عدالتی حکم کے اصل متن اور طبی ماہرین کی رائے کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے بعض حلقوں کی جانب سے این آر او کے حصول کی خواہش کا بھی الزام عائد کیا۔





