اسلام آباد: پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی سابق صدور اور وزرائے اعظم کو اقتدار سے محرومی کے بعد گرفتاری، قید اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، آصف علی زرداری، پرویز مشرف اور موجودہ دور میں عمران خان نمایاں نام ہیں۔

عمران خان کی صحت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حالیہ حکم کے بعد ایک بار پھر یہ بحث سامنے آئی ہے کہ ماضی میں قید رہنے والے سابق حکمرانوں کو جیل میں کس نوعیت کی سہولیات حاصل رہیں اور انہیں کن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ 18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے اور طبی ماہرین کی نگرانی میں علاج کی ہدایت کی تھی۔
ذوالفقار علی بھٹو

سابق وزیراعظم اور صدر ذوالفقار علی بھٹو کو 1974 کے ایک قتل کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی۔ سپریم کورٹ نے فروری 1979 میں سزا برقرار رکھی، جس کے بعد انہیں 4 اپریل 1979 کو راولپنڈی سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔
مارچ 2024 میں سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے قرار دیا کہ بھٹو کے مقدمے میں منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں سے متعلق بنیادی خامیاں موجود تھیں، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ آئین اور قانون کے تحت پرانے حتمی فیصلے کو کالعدم کرنے کا طریقہ کار موجود نہیں۔
بھٹو کی قید کے آخری دنوں کے بارے میں نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ان کے سیل سے کئی بنیادی سہولیات بھی ہٹا دی گئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کا سیل تقریباً 7 فٹ چوڑا اور 10 فٹ لمبا تھا، جہاں ایک پلنگ، گدا، چھوٹی میز اور کتابوں کی الماری موجود تھی، تاہم پھانسی سے چند روز قبل بستر سمیت بعض دیگر اشیا بھی ہٹا دی گئی تھیں۔
بے نظیر بھٹو

ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے بھی اپنی سیاسی زندگی میں متعدد مرتبہ گرفتاری، قید اور نظر بندی کا سامنا کیا۔
1979 میں اپنے والد کی پھانسی کے وقت بے نظیر اور ان کی والدہ نصرت بھٹو بھی قید میں تھیں۔ مارچ 1981 میں طیارہ اغوا کے واقعے کے بعد انہیں گرفتار کرکے پہلے کراچی اور بعد ازاں سکھر جیل منتقل کیا گیا، جہاں انہیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
اپنی سوانح عمری ’مشرق کی بیٹی‘ میں بے نظیر بھٹو نے سکھر جیل کی کوٹھڑی

، سردی، کمبل کی عدم دستیابی، صفائی کے ناقص انتظامات اور کھانے کے بارے میں تفصیلات بیان کی ہیں۔ ان کے مطابق کوٹھڑی میں شدید سردی داخل ہوتی تھی اور انہیں مناسب گرم کپڑے اور بستر تک میسر نہیں تھا۔
قید کے دوران انہیں کان میں شدید انفیکشن بھی ہوا، جس کے علاج کے لیے کئی ماہ درخواستوں کے بعد ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا آپریشن ہوا۔
نواز شریف

تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں گرفتار کیا گیا۔ 2000 میں انہیں طیارہ اغوا اور دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ ایک دوسرے مقدمے میں بھی 14 سال قید کی سزا ہوئی۔
دسمبر 2000 میں ان کی سزا تبدیل کردی گئی اور تقریباً 425 دن قید رہنے کے بعد انہیں جیل سے رہا کرکے سعودی عرب جلاوطن کردیا گیا۔
بعد کے برسوں میں پاناما کیس سے متعلق ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں بھی انہیں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ جیل کے مختلف ادوار میں نواز شریف کو عام قیدیوں کے مقابلے میں بہتر کلاس کی سہولیات حاصل رہیں۔
ان سہولیات میں بہتر بستر اور گدا، میز، کرسی، ذاتی کپڑے، کتابیں اور اخبارات شامل تھے۔ انہیں ٹی وی اور خصوصی اجازت سے اضافی خوراک کی سہولت بھی حاصل رہی، جبکہ خاندان کی جانب سے بعض ضروری اشیا وصول کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔
آصف علی زرداری

موجودہ صدر آصف علی زرداری نے مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر طویل عرصہ جیل میں گزارا۔ رائٹرز کے مطابق ان کی مجموعی قید تقریباً 11 سال رہی، جبکہ پیپلز پارٹی ان کے خلاف مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم کیے جانے کا مؤقف اختیار کرتی رہی۔
2003 میں پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ زرداری کو بعض اوقات پمز اسلام آباد میں قید تنہائی میں رکھا گیا، جبکہ لاہور منتقلی کے دوران انہیں کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا۔ پارٹی نے اس دوران ان کی خراب صحت کا بھی ذکر کیا تھا۔
2019 میں دوبارہ گرفتاری کے دوران اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جیل حکام کو قانون اور ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت کی اجازت سے انہیں ایئر کنڈیشنر، ریفریجریٹر، انٹرنیٹ اور ذاتی خرچ پر ملازم رکھنے کی سہولت دی گئی، جبکہ اے سی کے استعمال کو ڈاکٹر کی سفارش سے مشروط کیا گیا تھا۔
پرویز مشرف

سابق صدر پرویز مشرف کو 2007 میں آئین معطل کرنے اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدامات سے متعلق سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے دسمبر 2019 میں سزائے موت سنائی۔
تاہم پرویز مشرف نے یہ سزا جیل میں رہ کر نہیں کاٹی۔ مقدمے کے دوران وہ بیرون ملک تھے اور بیماری کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ ان کا انتقال 2023 میں ہوگیا۔
جنوری 2020 میں لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت اور اس کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سزا ختم کردی تھی، تاہم بعد میں سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عمران خان

سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں مختلف مقدمات میں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے خلاف 100 سے زائد مقدمات کا ذکر کیا جاتا ہے، تاہم ہر مقدمہ سزا پر منتج نہیں ہوا۔ عمران خان اور پی ٹی آئی متعدد مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے رہے ہیں۔
ان کی نمایاں سزاؤں میں توشہ خانہ کیس میں 2023 کی تین سالہ سزا، سائفر کیس میں 10 سال کی سزا اور غیر قانونی نکاح کیس میں سات سال کی سزا شامل رہیں، تاہم سائفر کیس کی سزا اپیل پر ختم ہوگئی جبکہ غیر قانونی نکاح کیس میں بھی انہیں بری کردیا گیا۔ القادر ٹرسٹ کیس میں جنوری 2025 میں عمران خان کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
جیل میں عمران خان کو بی کلاس سہولیات دیے جانے کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ ان کے لیے الگ رہائشی کمپاؤنڈ، چہل قدمی کی جگہ، ورزش کا سامان، کتابیں اور اخبارات دستیاب ہونے کا ذکر کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایل ای ڈی ٹی وی، میز، کرسی، روم کولر، ہیٹر، گرم و ٹھنڈا پانی، الگ کچن اور اپنی پسند کا کھانا تیار کرنے کی سہولت بھی بتائی گئی۔
جیل رپورٹس کے مطابق ان کے کھانے میں کافی، دلیہ، کھجور، اخروٹ، شہد، لسی، دودھ، چیا سیڈز، جوس، دیسی مرغی، مٹن، دال، سلاد، انڈے، پھل اور خشک میوہ جات شامل رہے۔ دوسری جانب عمران خان اور ان کی پارٹی کی جانب سے جیل کے حالات، گرمی، حبس، مچھروں اور ملاقاتوں پر پابندی سے متعلق شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
سپریم کورٹ کا حالیہ حکم

18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کی صحت سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے انہیں اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے طبی معائنے اور علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر کو بھی طبی عمل میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقات اور بیرون ملک مقیم بیٹوں سے فون پر رابطے کی اجازت بھی دی۔ عمران خان کو اسپتال میں 16 ستمبر کو ہونے والی آئندہ سماعت تک زیر علاج رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کردی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجی اسپتال میں علاج کی ہدایت قیدیوں کو حاصل قانونی سہولیات کے دائرہ کار سے متعلق سوالات اٹھاتی ہے اور عمران خان کا علاج سرکاری اسپتال میں بھی کرایا جاسکتا ہے۔
یوں پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سابق حکمرانوں کی قید کی کہانیاں ایک دوسرے سے خاصی مختلف نظر آتی ہیں؛ کہیں انتہائی سخت حالات اور بنیادی سہولیات کی کمی کا ذکر ملتا ہے، تو کہیں بہتر کلاس اور طبی بنیادوں پر اضافی سہولیات فراہم کیے جانے کی مثالیں موجود ہیں۔





