اعجاز آفریدی
پشاور: محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے سکول لیڈرز کو اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (اے ایس ڈی اوز) کی پوسٹوں پر ضم کرنے کے مبینہ فیصلے کے خلاف منیجمنٹ کیڈر آفیسر ایسوسی ایشن نے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم نے 2022 میں خیبر پختونخوا کے 28 اضلاع میں ایٹا ٹیسٹ کے ذریعے سکول لیڈرز بھرتی کیے تھے۔ ان کی ذمہ داری تحصیل اور ضلعی سطح پر تعلیمی امور کی نگرانی اور سرکاری سکولوں کی کارکردگی بہتر بنانا تھی۔
مظاہرین کے مطابق سکول لیڈرز کا کنٹریکٹ دسمبر 2025 میں ختم ہوگیا تھا، تاہم بعد ازاں اس میں توسیع کردی گئی۔ اب محکمہ تعلیم کی جانب سے عارضی بنیادوں پر بھرتی کیے گئے سکول لیڈرز کو منیجمنٹ کیڈر میں اے ایس ڈی اوز کی پوسٹوں پر ضم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
منیجمنٹ کیڈر آفیسر ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے اس اقدام کو دیگر اضلاع، بالخصوص قبائلی اضلاع کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے حقوق متاثر کرنے کے مترادف قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : حیات آباد میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ، شہری عدم تحفظ کا شکار
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اے ایس ڈی اوز کی تمام خالی آسامیوں کو باقاعدہ مشتہر کرکے خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ پر بھرتی کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اے ایس ڈی او کی پوسٹ پر تقرری باقاعدہ امتحان اور مسابقتی عمل کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے سکول لیڈرز کو براہِ راست ان عہدوں پر ضم کرنا نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
مظاہرین نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور وزیر تعلیم مینا خان آفریدی سے مطالبہ کیا کہ محکمہ تعلیم کے مبینہ فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور اے ایس ڈی اوز کی بھرتی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر کی جائے۔





