خیبر پختونخوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رکن صوبائی اسمبلی محمد نثار باز خان نے باجوڑ سمیت صوبے بھر میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر تحریکِ التوا جمع کروا دی ہےجس میں معمول کی کارروائی روک کر اس اہم معاملے پر فوری بحث کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جمع کروائی گئی تحریکِ التوا میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں جاری ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردانہ واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں قبائلی ضلع باجوڑ میں کئی افسوسناک واقعات رونما ہوئے ہیں۔
تحریک کے متن کے مطابق چند دن قبل ڈاکٹر غلام فاروق کے جواں سال بیٹے برہان کو شہید کیا گیا جس کے فوراً بعد ایک اور واقعے میں قومی مشر ملک سید احمد جان کو ان کے گھر کے سامنے نشانہ بنایا گیا۔
تحریکِ التوا میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ دو سے تین ہفتوں کے دوران باجوڑ لیویز فورس کے اہلکار بھی مسلسل دہشت گردوں کے نشانے پر رہے جن میں کانسٹیبل رحمت اللہ، عزیز خان، قادر شاہ اور ظاہر زادہ شامل ہیں۔ مسلسل بدامنی کے باعث عوام شدید خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو چکی ہے اور تجارتی و کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ،نوٹیفکیشن جاری
متن میں مزید کہا گیا ہے کہ بدقسمتی سے صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس سنگین صورتحال سے خود کو لاتعلق کر چکی ہیں اور کوئی بھی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں۔





