دبئی : متحدہ عرب امارات نے بیرونِ ملک سے ملازمین بھرتی کرنے کے عمل کو مزید آسان اور تیز بنانے کے لیے جدید ڈیجیٹل ورک پرمٹ سروس متعارف کرا دی۔
وزارتِ انسانی وسائل و اماراتائزیشن کی جانب سے شروع کی گئی نئی سہولت کے تحت رجسٹرڈ ادارے اب گھر بیٹھے آن لائن درخواستیں جمع کرا سکیں گے، جس سے کاغذی کارروائی اور طویل انتظامی مراحل میں نمایاں کمی آئے گی۔
نئی سروس کے ذریعے آجر مطلوبہ معلومات اور تمام ضروری دستاویزات آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کرکے بیرونِ ملک سے کارکنوں کی بھرتی کا عمل کم وقت میں مکمل کر سکیں گے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بھرتی کے نظام کو آسان، تیز اور مؤثر بناتے ہوئے کاروباری اداروں کا قیمتی وقت بچانا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی نئی ہدایات کے مطابق بیرونِ ملک سے کارکن لانے کے دوران ہونے والے تمام اخراجات آجر کی ذمہ داری ہوں گے۔
ان اخراجات میں بھرتی کی فیس، سرکاری ملازمت کی فیس، میڈیکل، ہیلتھ انشورنس، مطلوبہ شراکت اور دیگر ضمانتیں شامل ہیں۔ اس طرح ملازم سے کسی بھی قسم کی پوشیدہ فیس وصول نہیں کی جا سکے گی، جو غیر ملکی ورکرز کے لیے ایک اہم سہولت قرار دی جا رہی ہے۔
نئی ڈیجیٹل ورک پرمٹ سروس متحدہ عرب امارات کے اس وسیع تر وژن کا حصہ ہے جس کے تحت سرکاری خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور پیپر لیس بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خضدار میں زلزلے کے شدید جھٹکے
گزشتہ چند برسوں کے دوران امارات نے غیر ملکی شہریوں کے لیے گولڈن ویزا، گرین ویزا اور فری لانس پرمٹ سمیت مختلف سہولیات متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد ملک کو عالمی ٹیلنٹ کے لیے مزید پرکشش بنانا اور اسے بین الاقوامی سطح پر ٹیلنٹ کے بڑے مراکز میں شامل کرنا ہے۔
یہ نیا ڈیجیٹل ورک پرمٹ بھی کاروبار کرنے کے عمل کو آسان بنانے اور ملک کی لیبر مارکیٹ کو مزید مؤثر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
نئے نظام سے ایک جانب کاروباری اداروں کو فائدہ ہوگا کیونکہ انہیں مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانے اور کاغذی کارروائی میں وقت صرف کرنے کی ضرورت کم پڑے گی، جبکہ آن لائن نظام کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے سے مطلوبہ ٹیلنٹ کی بھرتی کا عمل زیادہ آسان ہوگا۔
دوسری جانب ڈیجیٹل اور شفاف طریقہ کار غیر ملکی ورکرز کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ ماضی میں ریکروٹمنٹ ایجنٹس کی جانب سے غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے ورکرز سے بھاری فیسیں وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم تمام متعلقہ اخراجات آجر کے ذمے ہونے سے ایسے استحصال اور فراڈ کے امکانات کم ہونے کی توقع ہے۔
مجموعی طور پر متحدہ عرب امارات کی نئی ڈیجیٹل ورک پرمٹ سروس سے ملک کی لیبر مارکیٹ کو مزید شفاف، آسان اور عالمی معیار کے مطابق بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔





