اوپن اے آئی کا GPT-6 Astra متعارف، کمپیوٹر استعمال اور تحقیق میں بڑی پیش رفت

Pakistan SCO Summit 2026

اوپن اے آئی نے اپنا جدید ترین فلیگ شپ مصنوعی ذہانت کا ماڈل GPT-6 Astra متعارف کرا دیا ہے، جسے کمپیوٹر استعمال، ویب براؤزنگ، کوڈنگ، تحقیق، سائنس اور پیچیدہ پیشہ ورانہ کاموں کے لیے اب تک کے زیادہ طاقتور ماڈلز میں شمار کیا جا رہا ہے۔

اوپن اے آئی کے مطابق GPT-6 Astra کی تیاری میں ٹیکساس میں قائم کمپنی کی Stargate تنصیب پر ایک لاکھ سے زائد GPUs استعمال کیے گئے، جو کمپنی کے مطابق کسی ماڈل کی پری ٹریننگ میں اس کا اب تک کا سب سے بڑا کمپیوٹنگ پیمانہ ہے۔

نئے ماڈل کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف صارف کے سوال کا جواب دینے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پیچیدہ درخواست کو مختلف مراحل میں تقسیم کرکے کمپیوٹر ماحول میں ان مراحل کو مکمل بھی کرسکتا ہے۔

کمپیوٹر پر خود کام کرنے کی صلاحیت

GPT-6 Astra آن لائن فارمز پُر کرنے، کسٹمر ریکارڈز اپ ڈیٹ کرنے، کیلنڈر منظم کرنے اور ویب پر تحقیق جیسے کام انجام دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دستاویزات اور اسپریڈ شیٹس کے ساتھ کام کرنے، ویب سائٹس بنانے، ڈیٹا کا تجزیہ کرنے اور سافٹ ویئر کی جانچ میں بھی مدد فراہم کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نئی ہونڈا سٹی کے چرچے، ہونڈا ایٹلس نے اچانک بڑا اعلان کردیا

اوپن اے آئی کے مطابق کام کے دوران اگر صارف اپنی ضروریات یا ہدایات تبدیل کردے تو Astra نئی ہدایات کے مطابق اپنا کام تبدیل کرسکتا ہے اور پہلے سے جاری وسیع تر کام کے تناظر کو برقرار رکھتا ہے۔

نئے ماڈل میں 1.05 ملین ٹوکنز کی کانٹیکسٹ ونڈو اور زیادہ سے زیادہ 128 ہزار آؤٹ پٹ ٹوکنز کی گنجائش موجود ہے، جس کے باعث یہ بڑے اور پیچیدہ ورک فلو پر کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

دستاویزات، اسپریڈ شیٹس اور پریزنٹیشنز بھی تیار

اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ GPT-6 Astra ایسے معیاری دستاویزات، اسپریڈ شیٹس اور پریزنٹیشنز تیار کرنے میں بہتر کارکردگی دکھاتا ہے جو صارف کے موجودہ ٹیمپلیٹس، ہدایات اور انداز کے مطابق ہوں۔

کمپنی کے مطابق اس کی خاص افادیت ایسے کاموں میں سامنے آتی ہے جہاں صرف متن تیار کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ مختلف ٹولز اور سافٹ ویئر کے درمیان منتقل ہوکر پورا ورک فلو مکمل کرنا مقصود ہوتا ہے۔

ایک لاکھ سے زائد GPUs پر تربیت

GPT-6 Astra کی تیاری میں استعمال ہونے والی کمپیوٹنگ طاقت بھی خاصی نمایاں ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق پہلی مرتبہ کسی ماڈل کی پری ٹریننگ میں ٹیکساس کی Stargate تنصیب پر ایک لاکھ سے زائد GPUs استعمال کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : نورٹون نے جدید مینکس آر 2026 موٹر سائیکل متعارف کرا دی

کمپنی کے اپنے ٹیسٹس کے مطابق OSWorld 2.0 کی latency simulations میں Astra نے GPT-5.6 Sol کے مقابلے میں کمپیوٹر استعمال کرنے والے کام تقریباً 47 فیصد کم وقت میں مکمل کیے۔

ڈویلپرز کے لیے GPT-6 Astra کی قیمت 10 ڈالر فی ایک ملین ان پٹ ٹوکنز جبکہ 50 ڈالر فی ایک ملین آؤٹ پٹ ٹوکنز مقرر کی گئی ہے۔

سائبر سیکیورٹی میں بھی بڑی صلاحیت

نئے ماڈل کی طاقت کے ساتھ اس سے وابستہ حفاظتی چیلنجز بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ اوپن اے آئی کے مطابق GPT-6 Astra سائبر سیکیورٹی کی صلاحیت کے حوالے سے اس کے Preparedness Framework کے تحت Critical سطح تک پہنچ چکا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ مناسب ٹولز اور رسائی کی صورت میں Astra پہلے سے نامعلوم سیکیورٹی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے اور بعض پیچیدہ حملہ آور طریقوں کو تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی وجہ سے اوپن اے آئی نے ماڈل میں مزید مضبوط حفاظتی اور نگرانی کے نظام شامل کیے ہیں۔

اوپن اے آئی کے مطابق موجودہ لانچ میں Astra کو زیادہ خطرناک سائبر کاموں پر محدود کیا گیا ہے، جبکہ دفاعی نوعیت کے کاموں کے لیے اسے سیکیور کوڈ ریویو اور پیچنگ جیسے استعمالات میں بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔

عام چیٹ بوٹ سے آگے بڑھنے کی کوشش

اوپن اے آئی کے مطابق GPT-6 Astra محض چیٹ بوٹ کا ایک نیا اپ گریڈ نہیں بلکہ ایسے مصنوعی ذہانت کے نظام کی جانب پیش رفت ہے جو استدلال کرنے کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر پر کام کرنے، سافٹ ویئر چلانے اور متعدد مراحل پر مشتمل مکمل ورک فلو انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

GPT-6 Astra کی رسائی مرحلہ وار فراہم کی جارہی ہے اور اسے OpenAI API کے ساتھ ChatGPT Plus، Pro، Business اور Enterprise صارفین کے لیے بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top