سینئر افغان صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی نے طالبان حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے اقدامات کی وجہ سے افغانستان عملی طور پر عالمی نقشے سے کٹ چکا ہے اور افغان شہریوں کے لیے دنیا بھر کے دروازے ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے ایک بیان میں سمیع یوسفزئی نے مختلف ممالک کی جانب سے افغان شہریوں پر عائد کی جانے والی سفری اور ویزا پابندیوں کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ “آخر ایک افغان شہری سیاحت، علاج یا سفر کے لیے کہاںجائے؟”
طالبانو ستاسو لامله افغانستان د نړۍ له نقشې نه عملأ تجرید شوی او ويستلی، د افغانانو پر مخ یې د نړۍ دروازې یوه په بله پسې تړلې دي!
سعودي .. حتې عمرې ویزې محدود کړې .
امارات او دوبۍ .. د نړۍ هر هیواد وګړې ته د سیات ویزه ورکوې خو په افغانانو سخت محدودیتونه لګولې
پاکستان.. د ویزې… pic.twitter.com/CrvsR5MPV2— Sami Yousafzai سمیع یوسفزي (@SamiYousafzaii) September 4, 2026
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے عمرہ ویزے محدود کردیئے ہیں جبکہ امارات اور دبئی جو تمام ممالک کو سیاحتی ویزے دیتے ہیںانہوں نے افغانوں پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
اسی طرح پاکستان، ایران، ہندوستان، تاجکستان، ازبکستان اور ترکیہ نے بھی ویزوں کا اجراء روک دیا ہے یا انتہائی محدود کر دیا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں افغان پاسپورٹ پر ویزا پروسیسنگ تقریباً معطل ہے۔
سمیع یوسفزئی نے طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی وجہ سے افغانوں کو دنیا کے ہر دروازے پر انکار کا سامنا ہے اور انہیں طالبان کے نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : انتظامی نظام ختم نہیں، آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے، محسن نقوی
انہوں نے مزید زور دیا کہ افغانستان دنیا کا حصہ ہے کوئی لاوارث جزیرہ نہیں اور افغان شہریوں کو تعلیم، سفر اور روزگار کے تمام بنیادی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔





