پشاور: خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز بارش کے باعث جہاں موسم خوشگوار ہوگیا، وہیں بجلی اور آمدورفت کا نظام بھی متاثر ہوا۔ بارش کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں 83 فیڈرز ٹرپ کرگئے، جس کے باعث متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر معطل ہوگئی۔
پیسکو ذرائع کے مطابق بارش کے باعث پشاور میں 19، خیبر میں 13، صوابی میں 9، مردان میں 29 جبکہ سوات میں 13 فیڈرز ٹرپ ہوئے۔ بجلی کی فراہمی متاثر ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب بارش کے باعث صوبائی دارالحکومت پشاور میں نکاسی آب کا نظام بھی متاثر ہوگیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں سڑکوں، گلی محلوں اور نشیبی مقامات پر بارش کا پانی جمع ہوگیا، جس کے باعث کئی مقامات تالاب کا منظر پیش کرنے لگے۔
سڑکوں پر کھڑے پانی نے ٹریفک کی روانی متاثر کردی جبکہ اسکول جانے والے بچوں اور شہریوں کو بھی آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈرینج سسٹم متاثر ہونے کے باعث بارش کا پانی دیر تک سڑکوں پر موجود رہا۔
ضلع خیبر میں طوفانی بارش، سیلابی ریلے
ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں بھی طوفانی بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی اور مختلف مقامات پر سیلابی ریلے سڑکوں پر آگئے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں بادل جم کر برسے، متعدد اضلاع میں ژالہ باری
ذرائع کے مطابق لنڈی کوتل اور گردونواح میں پانی کی سطح بلند ہونے سے مختلف سڑکیں متاثر ہوئیں جبکہ سیلابی ریلوں کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بارش کے نتیجے میں پاک افغان شاہراہ مختلف مقامات پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہوگئی، جس کے باعث شاہراہ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مقامی سڑکیں بھی سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئیں۔ پلوں کی عدم موجودگی کے باعث متعدد لوکل سڑکیں بند ہونے سے مختلف علاقوں کا باہمی رابطہ بھی متاثر ہوا۔
جمرود، لنڈی کوتل اور باڑہ میں بھی بارش
یہ بھی پڑھیں : رستم میں ٹریفک حادثہ، گاڑی گہری کھائی میں جاگری، ایک شخص جاں بحق
دوسری جانب ضلع خیبر کی تینوں تحصیلوں جمرود، لنڈی کوتل اور باڑہ میں شدید آندھی، تیز بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا سلسلہ جاری رہا۔
بارش کے باعث موسم سرد اور خوشگوار ہوگیا، تاہم مسلسل بارش سے نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سیلابی ریلوں کے پیش نظر ہنگامی اقدامات کیے جائیں، متاثرہ سڑکوں کو جلد بحال کیا جائے اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ شہریوں کو مزید مشکلات سے بچایا جاسکے۔





