گداگری کیلئے خواتین، بچوں اور معذور افراد کو پشاور لانے کا انکشاف

پشاور: سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پشاور میں گداگروں کے خلاف کارروائی اور آپریشن کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں، جبکہ حساس اور اہم مقامات پر گداگروں کے داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں نگرانی اور کارروائی کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع سے خواتین، بچوں اور معذور افراد کو گداگری کے لیے پشاور لائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض افراد کو مبینہ طور پر مختلف علاقوں سے کرائے پر لاکر گداگری میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق حساس اور اہم مقامات پر گداگروں کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں ان کی موجودگی اور سرگرمیوں کی نگرانی کے ساتھ کارروائی کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پنجاب سے پشاور آنے والی بعض خواتین گداگروں نے مختلف ہوٹلز میں طویل مدت کے لیے کمرے کرائے پر حاصل کر رکھے ہیں، جہاں ان کے ہمراہ بچے بھی موجود ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں آٹے کی قلت کا خدشہ، پنجاب سے ترسیل بھی متاثر

پولیس ذرائع نے بتایا کہ جنرل بس اسٹینڈ کے قریب واقع بعض ہوٹلز میں پنجاب سے آنے والی خواتین گداگروں کی جانب سے تین کمرے طویل مدت کے لیے کرائے پر حاصل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ کمرے پانچ، پانچ ماہ تک کے لیے کرائے پر لیے گئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گداگری کے ممکنہ منظم نیٹ ورک اور مختلف علاقوں سے خواتین، بچوں اور معذور افراد کو پشاور لاکر گداگری میں استعمال کیے جانے کے معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اہم مقامات پر گداگروں کے خلاف کارروائی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو مختلف علاقوں میں نگرانی مؤثر بنانے اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔

Scroll to Top