پشاور: ٹیکسلا میں قتل ہونے والی ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گیلہ منہ کے قتل کیس میں پولیس نے نامزد تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ واقعے سے متعلق مزید 20 افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ٹک ٹاکر کے قتل میں ملوث 2 مرکزی ملزمان کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ مقدمے میں نامزد ملزم کاشف کو پہلے ہی حراست میں لیا جاچکا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں راولپنڈی پولیس نے خیبرپختونخوا پولیس سے بھی رابطہ کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ میں ملوث مطلوب ملزمان کا تعلق دیر سے ہے، جن کی تصاویر اور دیگر معلومات مقامی پولیس کو فراہم کردی گئی ہیں۔ راولپنڈی پولیس کی خصوصی ٹیم بھی کارروائی کے لیے جلد دیر پہنچے گی۔
تفتیش کے دوران پولیس ٹیموں نے سیف سٹی کیمروں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے فرار ملزمان کے 2 سہولت کاروں سمیت 4 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔ حکام کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل پر نمبر پلیٹ موجود نہیں تھی جبکہ سواروں نے ہیلمٹ پہن رکھے تھے۔
پولیس کے مطابق شمسو بی بی کو 14 اگست کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تھانہ ٹیکسلا میں مقدمہ قتل، اقدام قتل اور اعانتِ جرم کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں بارشوں کا نیا سلسلہ، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقتولہ کے موبائل فون پر کاشف نامی شخص کی کال موصول ہوئی، جس کے بعد وہ اپنے بھائی نعمت اللہ اور بہن عاصمہ کے ہمراہ گھر سے باہر نکلیں۔ پولیس کے مطابق پٹرول پمپ کے قریب موٹر سائیکل سوار افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے دوران ایک گولی شمسو بی بی کی گردن میں لگی، جس سے وہ جاں بحق ہوگئیں۔ فائرنگ کے بعد گاڑی بے قابو ہوکر ڈمپر سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں مقتولہ کے بھائی اور بہن بھی زخمی ہوئے۔
مقتولہ کے والد کے مطابق انہیں اطلاع ملنے پر وہ ٹی ایچ کیو اسپتال ٹیکسلا پہنچے، جہاں انہوں نے اپنی بیٹی کی لاش کی شناخت کی، جبکہ ان کا بیٹا اور دوسری بیٹی زخمی حالت میں اسپتال میں موجود تھے۔
پولیس کے مطابق کیس کی تفتیش جاری ہے اور گرفتار ملزمان سے مزید پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔





